Saturday, May 8, 2021

جماع کرنے کے بعد کتنی دیر تک جسم گرم رہتا ہے اور غسل کتنی دیر بعد کرنا چاہیے؟

جماع  کرنے کے بعد کتنی دیر تک جسم گرم رہتا ہے اور غسل کتنی دیر بعد کرنا چاہیے؟


جماع  کرنے کے بعد کتنی دیر تک جسم گرم رہتا ہے اور غسل کتنی دیر بعد کرنا چاہیے؟

آج کا سوال یہ ہے کہ قربت کرنے کے بعد کتنی دیر کے بعد غسل کرنا چاہیے ۔جب میاں بیوی قربت کرتے ہیں تو اس کے بعد غسل کاتعین بلکل مقرر نہیں کیاگیا ہے بہتر یہ ہے کہ نماز فجر سے پہلے غسل کرلینا چاہیے تاکہ آپ نماز فجر ادا کرسکیں۔ اس دوران اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ مرد کی شر۔م ۔گاہ سےمادہ پوری طرح نکل جائے ۔ اگر نہانے کے بعد مرد کی ش۔۔رم گاہ سے کوئی مادہ کا اخراج ہوتا ہے اس صورت میں دوبارہ غسل کرنا واجب ہے ۔ جب تسلی ہوجائے اب کسی قسم کا مادہ نہیں نکلے گا تو تب غسل کرلینا چاہیے ۔ قربت کے بعد بہتر یہ ہوگا کہ آپ پیشاب کرلیں کیونکہ اس سے ہر قسم کا مادہ باہر خارج ہوجاتا ہے جب میاں بیوی دونوں کیلئے ضروری قربت کے بعد کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد پ،یشاب کرنے تک ہر قسم کا مادہ بیوی کی ش۔رم گاہ میں حمل ٹھہرنے کیلئے مرد نے اندرخارج کیا اسکے اندر جانے کاوقفہ دیا جائے۔ اضافی مادہ ہوگا وہ بیوی کی ش۔رم گا۔ہ سے خارج ہوجائے گا۔پ۔یشاب کرلیں تاکہ مرد کی ش۔رم۔گ اہ سے بھی وہ گاڑھا مادہ خارج ہوجائے جو بچا کچا ہے اور بیوی کی ش۔رم گاہ سے بھی خارج ہوجائے تاکہ غسل کے بعد ایسا کوئی معاملہ نہ ہو اگر ایسا معاملہ ہوگیا تو دوبارہ غسل کرنا ضروری ہے ۔ مقررہ کوئی وقت نہیں کوشش یہ کریں کہ نماز فجر سے پہلے غسل کرلیں۔ اسلام میں قربت کے بعد غسل کرنے کی مختلف روایات ہیں ۔قربت کے بعد غسل کرنے میں اتنی تاخیر اور سستی کرنا کہ نماز قضا ہو جائے یہ ناجائز ہے، شوہر بیوی دونوں کے لیے یہی حکم ہے، قربت کی حالت میں بچے کو دودھ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جب تک انسان قربت کر کے غسل نہیں کریگا وہ حرام ک۔اری میں رہیں گا وہ ل۔عنت میں رہیگا اور شیط۔ان اس پہ حاوی ہو جائیں گے کوئی بات نہیں ہے۔ جس سے پہلے اٹھ جائیں اور کرلے اس میں کافی ہے۔

Wednesday, May 5, 2021

منی، مذی اور ودی کسے کہتے ہیں، اور ان کا حکم کیا ہے؟

 منی، مذی اور ودی کسے کہتے ہیں، اور ان کا حکم کیا ہے؟


منی، مذی اور ودی کسے کہتے ہیں، اور ان کا حکم کیا ہے؟

سوال

’’مذی‘‘  اور ’’ودی‘‘  میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں سے کس سے وضو ٹوٹتا ہے؟  اور کس سے کپڑے  ناپاک ہو جاتے ہیں ؟ اور ان کا رنگ کیسا ہوتا ہے؟ اور اگر کوئی شخص بیمار ہو بلا شہوت کے مذی یا ودی نکلے اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مرد و زن کی اگلی شرم گاہ سے پیشاب کے علاوہ تین قسم کے مادے نکلتے ہیں: منی، مذی اور ودی۔

مرد کی منی گاڑھی اور سفید رنگ کی ہوتی ہے اور عورتوں کی منی پتلی اور زرد رنگ کی گولائی والی ہوتی ہے، مردوں کی لمبائی میں پھیلتی ہے۔  منی لذت سے شہوت کے ساتھ کود کر نکلتی ہے اس کے بعد عضو کا انتشار ختم ہوجاتا ہے، تر ہونے کی صورت میں اس میں خرما کے شگوفہ جیسی بو اور چپکاہٹ ہوتی ہے، اور خشک ہوجانے کے بعد انڈے کی بو ہوتی ہے۔

 جب کہ  مذی پتلی،  سفیدی مائل پانی کی طرح رنگ کی ہوتی ہے، جو  شہوت کے وقت بغیر شہوت کے نکلتی ہے، اس کے نکلنے  پر شہوت قائم رہتی ہے، اس میں  کمی نہیں آتی، بلکہ شہوت میں  مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

 اور  ودی سفید گدلے رنگ کی گاڑھی ہوتی ہے جو پیشاب کے بعد اور کبھی اس سے پہلے اور کبھی جماع یا غسل کے بعد بلا شہوت نکلتی ہے۔

 مذی یا ودی نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتاہے، ان دونوں سے غسل فرض نہیں ہوتا، البتہ ان کے خروج کے بعد  نماز و دیگر عبادات، جیسے قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کے لیے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مراقي الفلاح مع الطحطاوي میں ہے:

"المني" وهو ماء أبيض ثخين ينكسر الذكر بخروجه يشبه رائحة الطلع ومني المرأة رقيق أصفر. وفي الطحطاوي علي المراقي: قوله: "يشبه رائحة الطلع" أي عند خروجه ورائحة البيض عند يبسه". ( "فصل ما يوجب" أي يلزم "الاغتسال، / ٩٦)

مراقي الفلاح میں ہے:

"منها مذي.... وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال.ويسمى في جانب النساء قذى بفتح القاف والدال المعجمة. "و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لايجب الغسل بخروج المذي والودي". (حاشية الطحطاوی علی المراقي، فصل: عشرة أشياء لايغتسل، ١ / ١٠٠ - ١٠١)

تنوير الأبصار مع الدر المختارمیں ہے:

"(لَا) عِنْدَ (مَذْيٍ أَوْ وَدْيٍ) بَلْ الْوُضُوءُ مِنْهُ وَمِنْ الْبَوْلِ جَمِيعًا عَلَى الظَّاهِرِ". (الشامیة، ١/ ١٦٥،ط: سعيد) 

مذی اور ودی نجاست غلیظہ ہے،اورحکم یہ ہے کہ نجاستِ  غلیظہ اگرایک درہم (ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے:5.94 مربع سینٹی میٹر)سے کم مقدارمیں کپڑے پرلگی ہوتو (اگرچہ اس مقدارمیں بھی نجاست کودھولیناچاہیے تاہم ) وہ معاف ہے ،یعنی نمازکراہت کے ساتھ ہوجائے گی۔ اوراگرایک درہم کی مقدارسےزائدہو تو ایسے کپڑے میں نمازنہیں ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"( وعفا ) الشارع ( عن قدر درهم ) وإن كره تحريماً، فيجب غسله وما دونه تنزيهاً فيسن، وفوقه مبطل ( وهو مثقال ) عشرون قيراطاً ( في ) نجس ( كثيف ) له جرم ( وعرض مقعر الكف ) وهو داخل مفاصل أصابع اليد ( في رقيق من مغلظة كعذرة ) آدمي وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ". (1/316،ط:بیروت)

بیمار شخص کے لیے بھی مذدی اور ودی کا یہی حکم ہے۔ فقط واللہ اعلم

عورت کب زیادہ ہمبستری پسند کرتی ہے؟ مردوں کے لیے ضروری معلومات

 عورت کب زیادہ ہمبستری پسند کرتی ہے؟ مردوں کے لیے ضروری معلومات


عورت کب زیادہ ہمبستری پسند کرتی ہے؟

آج کا موضوع ہے جب ایک عورت مباشرت کو بہت پسند کرتی ہے اور وہ کب تک مباشرت بننا چاہتی ہے۔ جب عورت حیض سے پاک ہوتی ہے تو ، اس کا بیضہ دانی رحم میں داخل ہوتا ہے۔

جو عورت کے لئے شرم کی بات ہے۔ اور بیضہ چار سے پانچ دن تک بچہ دانی میں رہتا ہے۔ یعنی ، عورت اپنے شوہر کے قریب ہونے سے زیادہ بے چین ہوتی ہے۔

میں ان تمام مردوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر آپ ہارنے سے تھک جائیں۔ قریب قریب یہاں تو آئیے اسے پیش کرتے ہیں۔

لہذا دنوں کا خاص خیال رکھنا۔ تاکہ آپ کی اہلیہ ان خاص ایام میں مباشرت کی خوشی سے محروم نہ رہیں۔ لہذا آپ کا کام دریافت کرنا ہے کہ وہ کیا ہے اور اس کو لاگو کریں۔

ویسے ، مرد کا فرض ہے کہ وہ عورت کی جسمانی ضروریات کا خیال رکھے۔ اور پھر دوسرا سوال یہ ہے کہ عورت کب تک قریبی رہنا چاہتی ہے۔

ان خاص دنوں میں ، عورت میں ہوس بہت زیادہ ہے۔ اگر آدمی ٹھیک سے کام کرے۔ اور اگر وہ بہت سختی سے درخواست دیتا ہے ، تو عورت بہت جلد ختم ہوجاتی ہے۔

مثال کے طور پر ، اگر کوئی عورت دس منٹ میں ختم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ان دنوں ایک عورت پانچ دن میں ختم ہوجاتی ہے۔ جوڑے جو نئے شادی شدہ ہیں۔

اور ایک سے زیادہ بار رجوع کریں۔ تو بیوی شوہر سے منع نہیں کرتی ہے۔ ان دنوں قریب رہنے کے فوائد یہ ہیں۔ کہ عورت کے اندر ہوس کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

ہر مرد اور عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے۔ کہ وہ جلد سے جلد والدین بن جائیں۔ بیوی کے قریب ہونا ایک بہت ہی فائدہ مند کام ہے۔

خدا سب کو اولاد عطا کرے۔ اسے ایک طریقہ کہنا غلط ہوگا کیوں کہ یہ ایک عمل ہی نہیں ہے بلکہ بہت سے نکات کا مجموعہ ہے۔

ان کی ہمیشہ ضرورت نہیں رہتی ہے۔ مختلف ماحول میں مختلف چیزیں کام کرتی ہیں۔ لہذا انہیں سمجھنا اور عمل کرنا ہے۔ اس کی ایک مثال بائیسکل چلانا سیکھ رہی ہے۔

شروع میں آپ بار بار موٹر سائیکل سے گرتے ہیں۔ اپنے آپ کو متوازن رکھنے کے لئے آپ کو مختلف حربوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

لیکن تھوڑی دیر بعد ، آپ کے جسم اور دماغ کے مختلف حصے تربیت یافتہ ہوجاتے ہیں اور یہ جوڑ خود بخود کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔

آپ کو یہ سوچنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ بس سائیکلنگ سے لطف اندوز ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ کو تیرنا سیکھنے کے لئے شروع میں کچھ چیزوں کا سہارا لینا پڑتا ہے ، جیسے ہوائی جیکٹ پہننا اور تالاب کے کنارے پائپ کی مدد سے اپنے آپ کو پانی میں توازن رکھنا۔

یہاں تک کہ بڑھانے کے مشق کے آغاز میں ہی آپ کو کچھ چیزوں کا سہارا لینا پڑے گا۔ جیسے جیسے آپ کا دورانیہ بڑھتا جائے گا ، ان چیزوں کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی۔

اگر آپ مباشرت کے دوران صرف دخول اور فالج پر توجہ دیتے ہیں تو آپ بہت جلد انزال ہوجائیں گے۔ سیکس کو دخول تک محدود نہ رکھیں بلکہ ہر چیز سے پوری لطف اٹھائیں۔

اس سے آپ کو زیادہ سے زیادہ لطف حاصل ہوگا اور آپ کا دماغ دخول کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں میں بھی مصروف ہوجائے گا اور اس کی مدت میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔

سب سے پہلے ، یہ بہتر ہے کہ آپ ہلکی ورزش کریں اور سو جائیں۔ جانے سے پہلے نہا لیں اور تازہ دم کریں۔ پھر کمرے کے ماحول پر توجہ دیں۔

اگر ممکن ہو تو ، کمرے میں تازہ پھول لگائیں۔ موتی اور گلاب آپ کو اور آپ کے ساتھی کو ایک دل چسپ جذبے کا احساس دلائیں گے۔

بستر کے پہلو پر گلاب کا پانی رکھیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ خوشبو کی شمع روشن کریں۔ نیز ، ٹی وی پر یا میوزک سسٹم پر اچھی سست حرکت پذیر موسیقی چلائیں۔

سائڈ ٹیبل پر ہلکے ناشتے یا پھل بھی رکھیں اور کمرے میں ائیر فریسنر سپرے کریں۔ آپ یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ تمام لوازمات ہر دن بہت زیادہ ہیں اور ممکن نہیں ہیں لیکن یقین ہے کہ آپ کو زندگی بھر یہ سب کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ سب صرف عمل کے آغاز کے لئے ضروری ہے۔ آہستہ آہستہ ان سب چیزوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

صبح کے وقت ہمبستری کے فوائد جان کر آپ کی موجیں لگ جائے گی

 صبح کے وقت ہمبستری کے فوائد جان کر آپ کی موجیں لگ جائے گی

صبح کے وقت ہمبستری کے فوائد جان کر آپ کی موجیں لگ جائے گی

جومرد صبح کے وقت بیوی سے قربت کرتے ہیں کبھی مردانہ کمزوری کا شکار نہیں ہوتے آخر کیوں؟ اس آرٹیکل کو مکمل پڑھیں۔جو مرد صبح کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کرتے ہیں وہ لوگ کبھی بھی مردانہ کمزور ی کا شکا ر نہیں ہوتے ہیں۔ اور ان کی مردانہ طاقت دن بدن بڑھتی رہتی ہے کیونکہ اس وقت ان کے جسم میں بے پناہ جنسی طاقت موجود ہوتی ہے۔

اس وقت جنسی کمزوری کا شکار افراد بھی بہتر انداز میں قربت کرسکتے ہیں ۔کیونکہ ایریکشن اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

رات بھر آرا م کے بعد انسانی جسم صبح کے وقت جنسی توانائی سے بھر چکا ہوتا ہے ۔ اعصاب فریش ہوتے ہیں۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جو مرد اور عورت کے درمیان قربت کے لیے بہت بہتر اور مفید وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت مردوں کے ہارمونز عروج پر ہوتے ہیں ۔

اور ان کے اندر جماع کرنےکی طاقت پوری طرح جو ش میں ہوتی ہے۔ اس وقت قربت کرنےسے بہت زیادہ تسکین ملتی ہے جس سے مرد اور عورت دونوں کو پوری طرح جنسی لذت ہوتی ہے۔ اس وقت جسم کا انگ انگ زندگی کا مزہ لے رہا ہوتا ہے ۔

جبکہ صبح کے وقت جماع کرنے سے آپ لوگوں کی ٹائمنگ میں بھی زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔ اس وقت ذہن پر کوئی بوجھ یا پریشانی نہیں ہوتی اس لیے اس کا پورا دھیان جنسی قربت پر ہوتا ہے۔ اس وقت مباشرت کرنے سے عورت کے اندر حمل ٹھہرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح رات کو دس بجے تک سوجانا چاہیے ۔

آپ لوگوں کے جنسی حصوں کو بھی پورا سکون حاصل ہوتا ہے۔ پرسکون رہنے اور جنسی کارکردگی بہتر بنانے کےلیے بہترنیند بہت ضروری ہوتی ہے۔ لہٰذا ساری رات لیپ ٹاپ اور موبائل کے سامنے بیٹھنے سے گریز کریں ورنہ ذہنی دباؤ تھکاوٹ سے دو چار انسان کی کارکردگی کیاہوگی؟.

Monday, May 3, 2021

قوت باہ بڑھانے کے قدرتی طریقے

 قوت باہ بڑھانے کے قدرتی طریقے


قوت باہ بڑھانے کے قدرتی طریقے

(نیوپوائنٹ پاکستان) مرد حضرات اپنی قوت باہ بڑھانے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں،بعض اوقات یہ طریقے انتہائی کارگر ثابت ہوتے ہیں اور اکثر منفی ردعمل کے حامل ہوتے ہیں۔آج ہم آپ کو وہ آسان،بے ضرر اور انتہائی کارآمد طریقے بتائیں گے جوباآسانی دستیاب ہوتے ہیں اور ان کے منفی اثرات بھی نہیں۔

لہسن:

 لہسن کے بہت سے طبی فوائد ہیں، اس کی جڑ سے ان لوگوں کو فائدہ ہوسکتا ہے جنہیں مباشرت کی خواہش پوری کرنے میں کسی قسم کی کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ایچ کے باکرو اپنی تحقیق سے ثابت کرتے ہیں کہ جنسی اعتدال کی کامیابی میں لہسن بہت ہی مفید قدرتی ٹانک ہے۔ اس کا طریقہ استعمال نہایت ہی آسان ہے۔ صرف 2 سے 3 توریاں لہسن کی ہر صبح نگل لیں اور اس کے حیران کن نتائج سے لطف اندوز ہوں۔

 پیاز: 

قدرت نے پیاز میں وہ خصوصیات پنہاں کیں ہیں کہ عقل  گم ہوجاتی ہے۔ جیسے اگر عضو بدن صحیح طرح سے کام نہ کررہا ہو تو پیاز اس کمزوری کو نہ صرف دور کرتا ہے بلکہ اسے قدرتی حالت میں واپس لانے میں بھی اہم کردار اداکرتا ہے۔ اس کا طریقہ استعمال یہ ہے کہ کھانے کے ساتھ پیاز کھائیں، پیاز کوسلاد کا لازمی حصہ بنالیں۔

 گاجریں: 

بہت سے دیگر طبعی فوائد کے علاوہ جنسی سٹیمنا بڑھانے کے لئے گاجروں کا استعمال بہت ہی مفید ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی حیران کن بات ہے کہ گاجریں اور انڈے شہوت کو ابھارنے اور ٹائمنگ کو بڑھانے میں بہت مفید ثابت ٹھہرے ہیں۔ اس کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ 150 گرام گاجریں کاٹ لیں۔ اس میں ہاف بوائل انڈہ شامل کریں اور پھر شہد میں ڈبو کر کھائیں۔ صرف ایک ماہ روزانہ یہ مرکب کھانے سے آپ کو حیران کن نتائج دے گا۔

 بھنڈیاں: 

سبزیاں ویسے تو بہت سے غذائی اجزاءسے بھرپور ہوتی ہیں اور انسانی صحت کے حوالے سے بہت ہی مفید ثابت ہوتی ہیں، وہ لوگ جو مردانہ قوت سے یکسر محروم ہوچکے ہیں انہیں چاہیے کہ بھنڈیوں کا استعمال شروع کردیں۔ طریقہ استعمال یہ ہے کہ بھنڈیوں کی جڑ کا سفوف بنالیں اور اسے دودھ میں ملا کر پئیں۔ روزانہ ایک گلاس آپ کو ایک نئی طاقت سے روشناس کرائے گا۔

 مارچوب:

 یہ ایک سدا بہار بوٹی ہے جسے سبزی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ خدا نے اس میں مردانہ قوت کا خزانہ بھرا ہوا ہے۔ اس کا بھی طریقہ استعمال ذیل ہے جو بھنڈیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔

 ادرک:

 احتلام، جریان اور جنسی طور پر ہونے والی کمزوری کیلئے ادرک سے بڑھ کر کوئی دوسری نعمت نہیں ہوگی۔ آدھا گلاس ادرک کا جوس لیں اور اس میں ایک ہالف بوائل انڈہ مکس کریں۔ اس میں ایک چمچ شہد ملا کر محلول بنالیں اور روزانہ اس کا استعمال آپ کو مردانہ کمزوری سے نجات دلاتا ہے۔

 چھوہارے: 

چھوہارے یعنی خشک کھجوریں آئرن کا گڑھ ہوتے ہیں۔ یہ غیر معمولی طاقت کا منبع بھی ہوتے ہیں جو شہوت کی طاقت کو بڑھاتے ہیں۔ اس کو استعمال کرنے کا طریقہ بہت بھی مقبول ہے، نیم گرم دودھ میں چند چوہارے ڈالیں، اس کے علاوہ اس میں بادام اور پستہ دال لیں۔ اس کے علاوہ چوہارے، بادام اور پستہ کو ملا کر پیس لیں اور روزانہ ایک سے تین چمچ کھائیں۔

 منقہ:

 کھٹا میٹھا منقہ بھی قوت باہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ منقے کی مناسب مقدار لے کر دودھ میں ابال کر اس کا محلول بنالیں اور ایک شیشی میں بند کرلیں۔ روزانہ 20 گرام کھانے سے کھوئی ہوئی قوت واپس آجائے گی۔

Sunday, May 2, 2021

مردانہ کمزوری کی 10وجوہات جو آپ کو معلوم نہیں

مردانہ کمزوری کی 10وجوہات جو آپ کو معلوم نہیں


مردانہ کمزوری کی 10وجوہات جو آپ کو معلوم نہیں

 نیویارک(نیوپوائنٹ پاکستان) قدرت نے نسل انسان کی بقاءکے لئے جنسی عمل کا ذریعہ پیدا کیا ہے جس کی انجام دہی کے لئے ضروری ہے کہ مرد وہ مخصوص تناﺅ کی صلاحیت رکھتا ہو جسے ایستادگی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ایستادگی کے بغیر جنسی عمل کی انجام دہی ممکن نہیں اور اسے عرف عام میں نامردی کہا جاتاہے ۔
اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کئی ایسی بھی ہیں کہ جنہیں آپ احتیاط کا دامن تھام کر اپنی زندگی سے دور رکھ سکتے ہیں۔ان کا احوال درج ذیل ہے۔

1۔ سگریٹ نوشی: 

ہر قسم کے نشے سے دل کی صحت متاثر ہوتی ہے اور اس میں سگریٹ بھی شامل ہے ۔ جب دل اعضاءکو خون مناسب مقدار میں فراہم نہیں کر پاتا تو نامردی ہونا یقینی بات ہے۔

2۔ ذیا بیطس: 

اس بیماری کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار نارمل نہیں رہتی اور اعصاب بھی متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 50فیصد مریض نامردی کا سامناکرتے ہیں۔ 

3۔ موٹاپہ: 

موٹے لوگ دیگر مسائل کے علاوہ کولیسٹرول کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور نتیجتاًنامردی پیدا ہوتی ہے۔

4۔ دیگر بیماریاں:

 ہائی بلڈ پریشر، اعصابی بیماریاں، ریڑھ کی ہڈی یا دماغی چوٹ ، الزائمر اور فالج بھی نامردی پیدا ہو سکتی ہے۔

5۔ پیرانہ سالی

 عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دل اور دماغ کی صحت متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے اعضاءکو خون کی سپلائی ماند پڑجاتی ہے۔

6۔ ذہنی دباؤ: 

ذہنی دباؤنامردی کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔اس سے بچنے کے لئے ورزش کریں، نیند پوری کریں اور لڑائی جھگڑے اور غصے سے بچیں۔

7۔ ڈپریشن: 

یہ بیماری ذہنی دباؤ کی شدید ترین حالت ہے اس کا اثر بھی شدید ہوتا ہے۔ ڈپریشن کی ادویات بھی نامردی پیدا کرتی ہیں ۔

8۔ فحش بینی:

 فحش فلموں میں دکھائے جانے والے غیر فطری اور غیر حقیقی مناظر نوجوانوں کے ذہن میں احساس کمتری اور کمزوری کا احساس پیدا کرتے ہیں جو انہیں نا مرد بنا دیتا ہے۔

9۔ گنجہ پن: 

ڈاکٹر مائیکل اروگ کا کہنا ہے کہ گنجے پن کی دواسٹرائڈ جنسی جوش میں کمی اور نا مردی پیدا کر سکتی ہے۔

10۔ سائیڈ افیکٹ:

 بعض ادویات کے سائیڈ افیکٹ میں نامردی بھی شامل ہے۔ان میں بلڈ پریشر کی ادویات اینٹی ہسٹامین، ذہنی دباﺅاور ڈپریشن کی ادویات شامل ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ مردانہ طاقت میں کمی کیوں ہوتی ہے؟ماہرین نے ناقابل یقین وجہ بتا دی

 عمر بڑھنے کے ساتھ مردانہ طاقت میں کمی کیوں ہوتی ہے؟ماہرین نے ناقابل یقین وجہ بتا دی


عمر بڑھنے کے ساتھ مردانہ طاقت میں کمی کیوں ہوتی ہے؟تحقیق کاروں نے ناقابل یقین وجہ بتا دی

سنگاپور سٹی (نیوپوائنٹ پاکستان) سائنسدانوں نے عمر بڑھنے کے ساتھ مردانہ صحت کی کمزوری کی وجہ تلاش کرلی ہے اور اس تحقیق کے نتیجے میں مردانہ صحت کی بحالی اور بہتری کے لئے نہایت آسان نسخہ بھی بیان کردیا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے سائنسدانوں نے 29سے 72 سال عمر کے 531 مردوں پر تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ نیند اور مردانہ صحت میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ چونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ نیند کے مسائل بھی پیداہوجاتے ہیں لہٰذا یہی بات مردانہ صحت کی کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ 24 گھنٹوں کے دوران 4گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں مردانہ ہارمون ٹیسٹاسٹیرون کی مقدار تقریباً 8 گھنٹے سونے والوں کی نسبت 60فیصد کم پائی جاتی ہے، یعنی ان کی مردانہ صحت 8 گھنٹے یا زائد سونے والوں کی نسبت نصف سے بھی کم ہوتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیند میں ہر ایک گھنٹا اضافے کے ساتھ ٹیسٹاسٹیرون ہارمون کی مقدار میں 12 سے 15 فیصد اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

 اس تحقیق کے نتیجہ میں ماہرین کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ جو مرد بڑھتی عمر کے ساتھ مردانہ صحت کی کمزوری سے پریشان ہیں انہیں دیگر کسی بھی دوا یا علاج کی بجائے اپنی نیند بہتر کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح اگر نوجوان مردانہ صحت کے مسائل سے دوچار ہیں تو انہیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ رات بھر انٹرنیٹ یا دیگر تفریحات میں تو مشغول نہیں رہتے۔ مردانہ صحت کی بہتری کے لئے ماہرین نے سادہ نسخہ بتایا ہے کہ نیند میں ہر ایک گھنٹے کے اضافے کے ساتھ 12 سے 15 فیصد بہتر صحت حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ 9گھنٹے سے زائد سونا فوائد کی بجائے نقصانات کا حامل ہے۔

کیا آپ ناخن گوشت میں گھسنے سے پریشان ہیں؟ تو یہ ٹوٹکے آزمائیں

 کیا آپ ناخن گوشت میں گھسنے سے پریشان ہیں؟ تو یہ ٹوٹکے آزمائیں

کیا آپ ناخن گوشت میں گھسنے سے پریشان ہیں؟ تو یہ ٹوٹکے آزمائیں

(نیوپوائنٹ پاکستان) آپ اس وقت کیسے پرسکون رہ سکتے ہیں اور چل پھر سکتے ہیں جب کوئی ناخن گوشت میں گھس جائے؟

ایسا ہونے پر معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں جبکہ پیر میں انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اور یہ ایسا عام مسئلہ ہے جس کا سامنا ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو ہوتا ہے بلکہ برسوں تک ہوتا ہے حالانکہ اس سے نجات پانا اتنا زیادہ مشکل بھی نہیں۔

پاؤں کے ناخن کا گوشت میں گڑ جانا ایک انتہائی تکلیف دہ مگر پیروں کا بہت عام مسئلہ ہے جو ناخن کے ایک یا دونوں جانب ہوسکتا ہے۔

تنگ جوتے، چوٹ، جینز اور غلط انداز سے ناخن کاٹنا اس کی وجہ بنتے ہیں اور ایسا ہونے پر درد، سوجن، سرخی یا انفیکشن کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

تاہم اگر اس کا سامنا ہو تو یہ گھریلو ٹوٹکے آرام پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

پودینے کا تیل

پہلے اپنے پیروں کو کچھ دیر کے لیے پانی میں بھگو دیں یا متاثرہ حصے کی جلد کو صاف کریں، جلد خشک ہونے کے بعد 2 سے تین قطرے پودینے کے تیل کے لیں اور انہیں متاثرہ حصے پر لگالیں۔ یہ عمل دن میں 2 بار دہرائیں۔ پودینے کے تیل میں موجود منتھول درد میں کمی لائے گا جبکہ جراثیم کش ہونے کی وجہ سے یہ مزید انفیکشن سے بھی تحفظ فراہم کرے گا۔

بیکنگ سوڈا

بیکنگ سوڈا قدرتی طور پر جراثیم کش ہوتا ہے جو کہ ناخن گوشت میں دھنس جانے سے پیدا ہونے والے انفیکشن کا خطرہ کم کرتا ہے، آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا لے کر اس پر چند قطرے پانی ڈال کر گاڑھا پیسٹ بنالیں۔ اس پیسٹ کو متاثرہ حصے اور ارگرد لگالیں، جس کے بعد بینڈیج سے ڈھک دیں۔

ناریل کا تیل

کچھ مقدار میں ناریل کا تیل لیں اور زخم اور ارگرد کے حصے میں لگائیں، اس عمل کو دن میں 2 بار دہرائیں۔ ناریل کے تیل میں موجود فیٹی ایسڈز فنگل کش اور ورم کش ہوتے ہیں جو کہ گوشت میں دھنس جانے والے ناخن کو باہر نکالنے کے ساتھ درد سے ریلیف فراہم کرتے ہیں۔

لہسن

لہسن کے 2 سے تین ٹکڑے پیس لیں اور پھر انہیں زخم پر لگائیں، اس کے بعد پیسٹ کو بینڈیج سے ڈھانپ کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔

پیاز

پیاز کو کاٹ لیں اور ایک ٹکڑے کو زخم پر رکھ دیں، جس کے بعد اس کے اوپر پٹی باندھ کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ عمل رات کو سونے سے قبل ہی کریں، پیاز میں موجود اجزاءاس مسئلے سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ فنگل سے بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

پانی میں بھگوئیں

متاثرہ پیر کو نیم گرم پانی میں ڈبو کر بھی سوجن اور درد میں کمی لانا ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے پیر کو نیم گرم صابن ملے پانی میں 20 منٹ کے لیے ڈبو دیں، یہ عمل دن میں تین بار کرنا اس مسئلے سے جلد نجات میں مدد دے گا۔

نمک

اپنے پیر کو اپسم نمک ملے پانی میں 15 سے 20 منٹ کے لیے روزانہ 2 مرتبہ ڈبو دیں، اگر ناخن میں انفیکشن نہیں ہوا ہوگا تو وہ باہر اگنے لگے گا اور پھر اسے اوپر سے مناسب طریقے سے کاٹ لیں۔

روئی

یہ اس حوالے سے مقبول ٹوٹیکا ہے جس میں روئی کا ایک ٹکڑا ناخن کے اندر اس جگہ رکھ دیتے ہیں جہاں وہ جلد میں گھستا ہے، اس کے بعد ناخن باہر کی جانب اگنے لگتا ہے اور آپ کو اسے ٹھیک طرح سے کترنے کا موقع مل جاتا ہے، انفیکشن سے بچنے کے لیے روئی کے ٹکڑے کو سیب کے سرکے میں ڈبو کر رکھیں اور روزانہ اسے بدل دیں۔

دانت صاف کرنے والا دھاگا

جلد میں گھسنے والے ناخن کی سمت کو بدلنے کے لیے دانت صاف کرنے والے نرم دھاگے کا ایک ٹکڑا اس کے کونے میں رکھیں، دھاگے کے باہر نکلنے والے حصے کو کاٹ کر اسے وہاں چھوڑ دیں، اس طریقہ کار سے ناخن کو متاثرہ حصے سے الگ کرکے درد میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

وکس

وکس کی تھوڑی سی مقدار متاثرہ ناخن پر مل لیں اور پھر پٹی سے ڈھانپ دیں، وکس میں موجود آئلز جراثیم کش خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں جبکہ اس کا چکنا پن ناخن کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے اس کے رخ کو موڑنا آسان ہوجاتا ہے۔

ہلدی

ایک چائے کا چمچ ہلدی لے کر کچھ مقدار میں پانی میں ملا کر پیسٹ بنالیں اور اسے متاثرہ حصے میں لگا کر کچھ گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیں اور پھر صاف کریں، یا پٹی سے ڈھانپ کر اس پیسٹ کو خشک ہونے دیں، ضرورت پڑنے پر یہ عمل دوبارہ دہرائیں۔ ورم کش اور درد میں کمی لانے والی خصوصیات کی بناءہلدی اس تکلیف سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ جراثیم کش اور ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جو انفیکشن کی روک تھام کرنے کے ساتھ سوجن کی شکار جلد کو آرام پہنچاتا ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے کچھ مقدار میں روئی لیں اور اسے سیب کے سرکے میں ڈبو دیں۔ اس کے بعد متاثرہ ناخن پر رکھ کر اوپر سے پٹی باندھ لیں اور کچھ گھنٹوں کے لیے ایسے ہی رہنے دیں۔ پٹی اتارنے کے بعد جگہ کو خشک کرلیں۔

لیموں کا عرق اور شہد

لیموں اور شہد بھی جلد کے لیے جراثیم کش اثرات کے حامل ثابت ہوتے ہیں اور وہ متاثرہ ناخن میں ممکنہ انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں۔ ایک قطرہ لیموں کا عرق اور تھوڑا سا شہد متاثرہ حصے میں لگائیں ، اس کے بعد متاثرہ حصے کو پٹی سے لپیٹ دیں اور رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ اس عمل کو ہر رات اس وقت دہرائیں جب تک ناخن بہتر نہیں ہوجاتا۔

ناخن کو صحیح طرح کاٹیں

اگر اس مسئلے سے آئندہ بچنا چاہتے ہیں تو اپنے ناخن کو درست طریقے سے تراشیں۔ ہمیشہ کونوں سے ناخن کو کاٹنا شروع کریں، درمیانی حصے سے نہیں۔ کونے جتنے ہموار ہوں گے، اتنا ہی ناخن گوشت میں دھنسنے کا امکان کم ہوتا ہے، نوکیلے کونوں سے گریز کریں اور نہ ہی انہیں بہت زیادہ مختصر کاٹیں کیونکہ ایسا کرنے میں ان کا جلد میں دھنسنا ممکن ہوجاتا ہے۔ ہر 2 سے 3 ہفتے میں ناخن کاٹیں۔

آرام دہ جوتے پہنیں

اگر کبھی اس مسئلے کا سامنا ہوچکا ہے تو ایسے جوتوں کا انتخاب کریں جو انگلیوں کو زیادہ اسپیس فراہم کرسکے، بہتر تو یہ ہے کہ نرم فائبرک سے بنے جوتے استعمال کریں جو جلد کو 'سانس' لینے کا موقع دیں جبکہ انگلیوں کو جگہ بھی دیں۔ تنگ اور غیر آرام دہ جوتے اکثر گوشت ناخن میں دھنسنے کا باعث بنتے ہیں۔

ڈاکٹر سے رجوع کریں

اگر کوئی طریقہ کام نہ آئے اور ناخن 2 سے 3 دن میں بہتر نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ جنرل پریکٹیشنر بھی عام طور پر اس مسئلے کا علاج کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تاہم اگر معاملہ پیچیدہ ہو یا متاثرہ جگہ بہت زیادہ سوج جائے تو کسی اسپشلسٹ سے رجوع کریں۔


بیویوں سے تین دن بعد لازمی ہمبستری کرلیا کرو،انتہائی اہم بات جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہیے

 بیویوں سے تین دن بعد لازمی ہمبستری کرلیا کرو،انتہائی اہم بات جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہیے


بیویوں سے تین دن بعد لازمی ہمبستری کرلیا کرو،انتہائی اہم بات جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہیے

 سیدنا عمرؓ کے پاس کعب اسدی تشریف فرما تھے۔ ایک خاتون آئی اورآ کر کہنے لگی: امیر المومنین! میرا خاوند بہت نیک ہے۔ساری رات تہجد پڑھتا رہتا ہے۔ اور سارا دن روزہ رکھتا ہے،- اور یہ کہہ کر خاموش ہو گئی، عمرؓ بڑے حیران کہ خاتون کیا کہنے آئی ہے۔؟ اس نے پھر یہی بات دہرائی کہ میرا خاوند بہت نیک ہے۔ ساری رات تہجد میں گزار دیتا ہے۔ اور سارا دن روزہ رکھتا ہے۔ اس پر کعبؒ بولے: اے امیرالمومنین! اس نے اپنے خاوند کی بڑے اچھے انداز میں شکایت کی ہے۔ کیسے شکایت کی۔؟امیرالمومنین! جب وہ ساری رات تہجد پڑھتا رہے گا۔ اور سارا دن روزہ رکھے گا ۔تو پھر بیوی کو وقت کب دے گا؟ تو کہنے آئی ہے۔ کہ میرا خاوند نیک تو ہے-

مگر مجھے وقت نہیں دیتا۔ چنانچہ عمرؓ نے اس کے خاوند کو بلایا تو اس نے کہا: ہاں میں مجاہدہ کرتا ہوں۔ یہ کرتا ہوں، وہ کرتا ہوں، حضرت عمرؓ نے حضرت کعبؓ سے کہا کہ آپ فیصلہ کریں۔ حضرت کعبؓ نے ان صاحب سے کہا کہ دیکھو! شرعاً تمہارے لیے ضروری ہے۔ کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارو، ہنسی خوشی اس کے ساتھ رہو۔ اور کم از کم ہر تین دن کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرو۔ خیر وہ میاں بیوی تو چلے گئے۔تو عمرؓ نے ابی بن کعب سے پوچھا: آپ نے یہ شرط کیوں لگائی کہ ہر تین دن کے بعد بیوی سے ملاپ کرو؟-

انہوں نے کہا:

دیکھیں! اللہ رب العزت نے مرد کو زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی۔ چنانچہ اگر چار شادیاں بھی کسی کی ہوں۔ تو تین دن کے بعد پھر بیوی کا نمبر آتا ہے۔ تو میں نے اس سے کہا کہ تم زیادہ سے زیادہ تین دن عبادت کر سکتے ہو۔ تین دن کے بعد ایک دن رات تمہاری بیوی کا حق ہے۔ تمہیں گزارنا پڑے گا، تو دیکھو شریعت انسان کو کیا خوبصورت باتیں بتاتی ہے۔