Sunday, April 17, 2022
Monday, May 10, 2021
عورت کی مجبوری یا شوق
عورت کی مجبوری یا شوق
عورت کی مجبوری یا شوق
نیوپوائنٹ! صاحب اب میرا کام ہو جائے گا نا؟اس نے دیوار کی طرف رخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔ ہاں ہاں بھئی ہو جائے گا۔ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں۔ پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اورپھر جھٹک کر لپیٹ لیا۔پیسے ملنے تک تو تمہیں ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے۔ کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے شرٹ کے بٹن لگائے۔
ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم سے باہر احتیاط کے طور پہ ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا۔ویسے تو دفتر کا چوکیدار مجھ سے چائے پانی کے پیسے لے کر میرا خیر خواہ ہی تھا لیکن میں کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔پھر میں کل ہی آ جاؤں؟ وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی۔نہیں کل نہیں!!! میں اس روز یہاں آ نے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئے بس آہ بھر کر رہ گیا۔ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔ میں نظروں سے اس کے جسم کے پیچ و خم کو تولنے لگا۔ ارے سنو!! تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہو گئی۔ اسے اتار کر سیدھی پہن لو۔ میں چلتا ہوں میرے پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ اور ہاں! احتیاط سے جانا کوئی دیکھ نہ لے تمہیں یہاں۔زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا۔ دو مہینے پہلے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت کے دوران اسے ٹانگ پر گولی لگی اور اب بستر پر لاچار پڑا تھا۔ فیکٹری کے مالکان اس کی امداد کے لئے پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کر کے بھول چکے تھے۔ اس کی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی۔ میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام کو اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
!عمر! عمراپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عقب سے مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔ اس کے اور میرے گھر آنے کا وقت ایک ہی تھا۔ وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی۔ایک خوشخبری ہے عمروہ تیزی سے اوپر آ رہی تھی۔ خوشی سے اسکی باچھیں کھل رہی تھیں۔منیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں نے میرے پروموشن کی بات کی ہے۔ دروازے کے سامنے اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولا اور چابی نکال انہوں نے کہا تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہو جائے گا۔ارے واہ مبارک ہو۔ میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی۔تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں مگر ڈائریکٹر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں۔ کیوں نہ ہوں میں محنت جو اتنی کرتی۔۔وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے جا رہی تھی۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اس کی فتح کی داستان سے محظوظ ہو رہا تھا کہ۔۔ اچا نک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں س الجھ گئی۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ پڑھنا مت بھولئے گا:
Wednesday, May 5, 2021
میری شادی ایک ان پڑھ آدمی سے ہوئی تھی جبکہ میں ایک ماڈرن لڑکی تھی،وہ جب کام سے گھر آتاتو اس سے بُو آتی تھی میں اس کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی تھیں مگر اس دن کچھ ایسا ہوا کہ زندگی ہی۔
میری شادی ایک ان پڑھ آدمی سے ہوئی تھی جبکہ میں ایک ماڈرن لڑکی تھی،وہ جب کام سے گھر آتاتو اس سے بُو آتی تھی میں اس کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی تھیں مگر اس دن کچھ ایسا ہوا کہ زندگی ہی۔
میری شادی ان پڑھ آدمی سے ہوئی ماڈرن لڑکی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی
میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوںمیرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکالیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی مجھے عمر سے بدبو آتی تھی ان کا کام اتنا اچھا نہ تھاخیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتامیں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی عمر مجھے پیار سے سمجھاتاکبھی چپ ہو جاتاکبھی غصہ ہو کر گھر سے باہر چلا جاتامیں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سےامی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسابس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہےباقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہولیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھےامی ابو نے عمر کو بلوا لیاوہ میرے سامنے بیٹھا تھاامی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتےعمر بابا سے مخاطب ہو کر بولاانکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوںمیرے چاچا تایا سب موجود تھے وہاںمیں بولی مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ عمر خاموش ہو گیاسر جھکائے بیٹھا تھاچاچا بولے ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزارکچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا
لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینےمیں نے دل کی گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارامیں عمر کے ساتھ چلی گئی ہم بجلی پانی گیس کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھےعمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایاخیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتاایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دومیں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے دےعمر مسکرانے لگامیرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہوتم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کروجو کہو گی کروں گامیں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتانہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہےمیں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا
میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تومیری زندگی نے جو لمحہ دیکھامیں بے جان ہو گئی وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھاجس کا کبھی حال نہ پوچھا تھاجسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھاٹانگیں کانپ رہی تھی پرانے سے کپڑے پہنےپسینے سے شرابورپاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی میں مر کیوں نہ گئی تھی وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھااتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کرعمر کو شاید بھوک لگی تھی ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہواساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھامیں قربان جاوںمیرا عمر میرے لیئے کس درد سے گزر رہا تھا
میں آنسو لیئے دیکھتی رہی کام ختم ہواوہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیاکتنی بے بسی تھکن تھی عمر میں سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں فارس سر وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیامیں بن بتائے کچھ خریدے گھر واپس لوٹ گئی بہت روئی تھی بہت زیادہ عمر کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایاعمر گھر آیامیں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھاگھر آیامجھ سے سلام کیا کچن میں گیاپلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیاایک سال بعد پلاو کھانے لگا ہوں فارس سر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے میں عمر کی طرف دیکھے جا رہی تھی عمر کتنا درد سہتا ہے اور بتاتا بھی نہیں میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھادل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں عمر نے کھانا کھایاپھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزارمیں چیخ چیخ کر رونے لگی
عمر کے پاوں چوم لیئےعمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہئےمجھے یہ پیسے نہیں چاہئےعمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہےعمر نے میرا ہاتھ تھاما بولےاگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جاناکہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو گی خدا جانےبہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتامیں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھےنہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں
کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جس میں نے عمر کا دیکھا تھاخدا کی قسم ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہےجتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہوپیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتاخدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جس سکون عمر کی بانہوں میں آتا ہےجو سکون عمر کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہےہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی دیکھ تو سہی آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی عمر اب میری زندگی ہےاور میں عمر کی شہزادی ہوں۔
Monday, May 3, 2021
دکھاوے کی دنیا
دکھاوے کی دنیا
دکھاوے کی دنیا
(نیوپوائنٹ پاکستان)! ایک شخص گھر آیا تو اس کی بیوی نےکہا : ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے اسے کٹوا دو ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جب غسل کررہی ہوں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔”
وہ بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور درخت کٹوا دیا۔
وقت گزرتا رہا۔ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر آیا تو دیکھا بیوی کسی مرد کے ساتھ مشغول تھی۔اسے بہت دُکھ ہوا۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔ اور وہاں اپنا کاروبار شروع کرلیا۔
اللہ نے کاروبار میں خوب برکت دی ، اور اپنے روز افزوں کاروبار کی بدولت وہ بغداد کے سرکردہ شہریوں میں شمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بغداد کے کوتوال تک رسائی بھی حاصل کرلی۔
ایک دن کوتوال کے گھرچوری ہوگئی۔پولیس نے مجرم کا سراغ لگانے اور پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس نے دیکھا کہ ایک شیخ کا کوتوال کے گھر آنا جانا ہے ، اور کوتوال ان کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔لیکن ایک بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شیخ آدھے پاؤں پر چلتے ہیں ، پورا پاؤں زمین پر کیوں نہیں رکھتے۔اس نے کسی سے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا:۔”یہ پورا پاؤں زمین پر اس لیے نہیں رکھتے کہ کہیں کیڑے مکوڑے نہ کُچلے جائیں۔”
وہ شخص فوراً کوتوال کے پاس گیا اور اسے کہا:۔
“جان کی امان ہو تو عرض ہے ، آپ کی چوری اِسی شیخ نے کی ہے۔”جب تحقیق کی گئی تو مال مَسرُوقہ اُسی شیخ سے برآمد ہوا۔
کوتوال نے حیرانی سے کہا:۔
“ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شیخ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟”اس نے کہا:۔”میرے گھر میں ایک درخت تھا ، جس نے مجھے نصیحت کی تھی:
“جو لوگ ضرورت سے زیادہ “نیک نظرآنے” کی کوشش کرتے ہیں ، وہ عموماً نیک نہیں ہوتے۔”سبق: یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ فیس بک کی حدود تک ہی بااخلاق رہتے ہیں حقیقی زندگی میں ان کی شر سے ان کے محلے دار، رشتے دار حتکہ گھر والے بھی پناہ مانگتے ہیں۔
ایسے اخلاق و نیک نامی کا کیا فائدہ جس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھائیں، جنکا آپ کی پریکٹیکل لائف سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اکثر ایسے کرداروں سے واسطہ رہتا ہے، کہ ذرا سا جھگڑا کیا ہوا، وہ اپنی کمینگی پر اتر آتے ہیں، ذرا سا اختلاف کر کے دیکھ لیں کسی سے، اپنی ٹائم لائن پر موصوف کیا بنے ہوتے ہیں اور حقیقت میں کیا۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں ظاہری اور باطنی طور پر اعمال صالحہ پر چلنے اور ہمارے معاملات و معاشرات پر بااخلاق رہنے کی توفیق دے ۔آمین
Saturday, May 1, 2021
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ
بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض کا شمار پاکستان کی چند امیرترین شخصیات میں ہوتاہے اوراُنہوں نے اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے امارت کے خواب دیکھنے والے نوجوانوں کو تین تجاویز بھی دی ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ملک ریاض نے انکشاف کیاکہ اُنہوں نے راولپنڈی کے مسلم ہائی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور دوسرے سال 333نمبروں کیساتھ میٹرک کرنے میں کامیاب ہوسکے, اگر 332 نمبر ہوتے تو دوسرے سال بھی فیل ہی ہوتا، بہت غربت دیکھی اور اب اللہ تعالیٰ نے پیسہ بھی بہت بہت دیا ، امیرلوگوں کی کتاب پڑھی جس میں لکھاتھاکہ 39میں سے 35افراد پڑھائی میں نالائق ہی تھے ، بل گیٹس کو ہی ہی دیکھ لیں ، اگر یونیورسٹی سے نہ نکالاجاتاتووہ آج کے بل گیٹس نہ ہوتے۔ملک ریاض نے بتایاکہ اللہ نے لوگوں سے کوئی کام لینے ہوتے ہیں اوراسی طرف لگادیتاہے ، میں آج اگرڈاکٹرہوتاتوکچھ اور پوزیشن ہوتی ۔اُنہوں نے تین اصول بھی نوجوانوں کے ساتھ شیئرکیے اور بتایاکہخواہش:سب سے پہلے آپ کے اندر امیر بننے کی خواہش ہونی چاہیے ، اگرآپ کچھ اور کام بھی کرناچاہتے ہیں توپہلے اس کی خواہش ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کیساتھ کاروباریا اس کی راہ پر خرچ :ملک ریاض نے کہاکہ ’اللہ کے ساتھ کاروبار کرناچاہیے یعنی فراخ دلی سے صدقہ و خیرات اور اللہ کی راہ پر دیناچاہیے ، اس سے برکت آتی ہے ، سکول میں تھا تو تب ہی پانچ آنے روز اللہ کی راہ پر دیتاتھا۔ویلفیئرسے نوآدمیوں کا کھاناشروع کیا تھااور آج جتنے لوگوں کا انتظام ہوتاہے ، حساب بھی نہیں، اس کی راہ پر ایک لاکھ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ70 گنا دیتاہے ۔ اپنے کام سے محبت: اپنے کام سے کمٹمنٹ ہونی چاہیے ، محبت یا عزم آپ کا جتنا مضبوط ہوگا، کامیابی اتنی ہی جلدی ملے گی اور اللہ تعالیٰ آسانیاں پیداکردے گا، دل اور دماغ کامیابی کا سوچ رہاہوگاتوآپ کوشش بھی کریں گے۔ آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی ایسا کام کراتاہے جو حقوق العباد میں آتاہے۔۔
Friday, April 30, 2021
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔
اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لاکر حاضر کیا گیا۔
شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی: تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: یقیناً کردیا ہے-
شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم: نہیں
شہزادی: کیسے؟
عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی: ہاں دیکھا ہے
عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟
شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم نے کہا : تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
Wednesday, April 14, 2021
رمضان المبارک کے فضائل و مسائل تفصیل کے ساتھ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
رمضان المبارک کے فضائل و مسائل تفصیل کے ساتھ:
Saturday, November 7, 2020
Wednesday, November 4, 2020
پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟ حیران کن اور زبردست طریقے
پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟ حیران کن اور زبردست طریقے
پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟
پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟
1:بچت کے لئے اہداف طے کریں۔ کسی چیز کے حصول کے لئے اہداف کا تعین کرنا سب سے پہلے آپ کو کرنے کی ضرورت ہے۔
2:قرضوں سے آزاد ہوجائیں۔
3:ہر دن کچھ بچائیں۔
4:غیر استعمال شدہ اشیا فروخت کریں۔
5:ہر چیز کو بجٹ میں کرو۔
6:اپنی بچت کو ایک طرف رکھیں۔
7:ہنگامی صورتحال کے لئے مالی طور پر تیار رہیں۔
8:آسائشوں پر اپنا خرچ کم سے کم کریں۔
Thursday, October 22, 2020
How To Istikhara (Full Details In Urdu)
استخارہ کیا ہے؟ کیسے کرتے ہیں؟ استخارہ کی اہمیت؟ طریقہ کار؟وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج کے اس بلاگ میں ہم استخارہ کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے، آپ سب سے گزارش ہے کہ ایک بار ضرور تفصیل سے پڑھیں اگر آپ کو اچھا لگا تو ثواب کی نیت کے دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ ان بھائی بہنوں کو بھی فائدہ پہنچ جائیں جو اس سے ناخبر ہیں۔
مکمل تفصیل سے یہاں پڑھیں:
Wednesday, September 16, 2020
Tuesday, September 15, 2020
Monday, September 14, 2020
تم اک گورکھ دھندا ہو، گورکھ دھندا کے مختلف معانی جاننے کے لئے یہاں کلک کریں
گورکھ دھندا
شعراء و فصحاء کی عادت ہے کہ اپنے کلام کو ایک منفرد انداز
میں پیش کرتے ہیں ، ان میں اکثر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ،عام آدمی کی تو خیر
ہے کبھی کبھی خواص بھی ان کے معانی نہیں سمجھتے، ایسا ہی نازخیالوی کا مشہور نظم
"تم اک گورکھ دھندا ہو" میں"گورکھ دھندا" ایک مشکل لفظ
استعمال ہوا ہے میرا خیال ہے کہ اگر آپ نے اس لفظ کو ایک بار بھی پڑھا ہے تو اب
بھی آپ اس کے معانی کے تلاش میں ہیں تو آئیں اور "گورکھ دھندا" کے معانی
جان لیں۔
یہ مذکر ہے لفظ اس کے مختلف معانی ہیں:
1۔ ایک پیچیدہ قفل (تالا) جس کا کھولنا مشکل ہوتا ہے۔
2۔ سمجھ سے بالاتر۔
3۔ پیچیدہ معاملہ۔
4۔پہیلی
5۔ سمجھ میں نہ آنے والا، ایک کونا بٹھاؤ تو دوسرا نکل آتا
ہے۔
یہ معانی فیروزاللغات نے لکھے ہیں۔
Sunday, September 13, 2020
دس مہلک بیماریاں، یہ بیماریاں آپ کی جان لے سکتی ہیں، اہم معلومات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں
10مہلک بیماریاں، یہ بیماریاں آپ کی جان لے سکتی ہیں
10 مہلک بیماریاں:
جب لوگ دنیا کی مہلک بیماریوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ، ان کے ذہن شاید تیز رفتار ی کے ساتھ لاعلاج بیماریوں کی طرف چھلانگ لگاتے ہیں جو وقتا فوقتا ہی سرخیاں کھینچتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ، ان بیماریوں میں سے بہت ساری اموات دنیا کی پہلی 10 وجوہات میں شامل نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2015 میں دنیا بھر میں 56.4 ملین افراد ٹرسٹڈ سورس کا انتقال ہوگیا ، اور ان میں سے 68 فیصد بیماریوں کی وجہ سے تھے جو آہستہ آہستہ ترقی کرتی تھی۔شاید اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ مہلک امراض میں سے کئی جزوی طور پر قابل علاج ہیں۔ عدم رکاوٹ کے عوامل میں یہ شامل ہوتا ہے کہ جہاں کوئی شخص رہتا ہے ، بچاؤ کی دیکھ بھال تک رسائی اور صحت کی دیکھ بھال کا معیار۔ یہ سارے عنصر خطرے میں ہیں۔ لیکن ابھی بھی ایسے اقدامات موجود ہیں جن سے ہر کوئی اپنا خطرہ کم کرنے کے لیے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
10 مہلک بیماریوں کے بارے میں جاننے کے لئے پڑھیں جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات کا سبب بنے ہیں:
1۔اسکیمک دل کی بیماری ، یا کورونری دمنی کی بیماری
دنیا کی مہلک ترین بیماری کورونری دمنی کی بیماری (سی اے ڈی) ہے۔ جسے اسکیمک دل کی بیماری بھی کہا جاتا ہے ، سی اے ڈی اس وقت ہوتا ہے جب دل میں خون کی فراہمی کرنے والی خون کی نالیوں کو تنگ کردیا جاتا ہے۔ علاج نہ ہونے والے سی اے ڈی سے سینے میں درد ، دل کی خرابی ، اور اریٹھمیاس کا سبب بن سکتا ہے۔
2۔اسٹروک /فالج
فالج اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے دماغ کی شریان مسدود (بند)ہوجاتی ہے یا لیک ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ آکسیجن سے محروم دماغی خلیات چند منٹ میں ہی مرنا شروع کردیتے ہیں۔ فالج کے دوران ، آپ کو اچانک بے حسی اور الجھن محسوس ہوتی ہے یا پھر چلنے اور دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اگر علاج نہ کیا گیا تو ، فالج طویل مدتی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ، طویل المیعاد معذوری کا سب سے بڑا سبب قابل اعتبار ذریعہ ہیں۔ فالج کے 3 گھنٹے کے اندر علاج کرانے والے افراد میں معذوری کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔ بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) ٹرسٹڈ ماخذ کی اطلاع ہے کہ 93 فیصد لوگ جانتے تھے کہ ایک طرف اچانک بے حسی ہونا اسٹروک کی علامت ہے۔ لیکن صرف 38 فیصد افراد کو ان علامات کا علم تھا جو انھیں ہنگامی دیکھ بھال کے لیے اشارہ کریں گے۔
3۔سانس کے نچلے حصے میں انفیکشن
سانس کا نچلا حصہ آپ کے ایئر ویز اور پھیپھڑوں میں ایک انفیکشن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے:
- انفلوئنزا ، یا فلو
- نمونیا
- برونکائٹس
- تپ دق
وائرس عام طور پر سانس کے نچلے انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بیکٹریا کی وجہ سے بھی ہوسکتے ہیں۔ سانس کے نچلے حصے میں انفیکشن کی بنیادی علامت کھانسی ہے۔ آپ کو اپنے سینے میں سانس لینے ، گھرگھراہٹ اور سخت احساس بھی ہوسکتا ہے۔ زیر علاج نچلے سانس کے انفیکشن سانس لینے میں ناکامی اور موت کا باعث بن سکتے ہیں۔
4۔پھپھڑوں کی پرانی متعرض بیماری
دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (سی او پی ڈی) ایک طویل مدتی ، ترقی پسند پھیپھڑوں کی بیماری ہے جو سانس لینے میں دشواری کا باعث بنتی ہے۔ دائمی برونکائٹس اور واتسفیتی COPD کی اقسام ہیں۔ 2004 میں ، دنیا بھر میں تقریبا 64 64 ملین افراد ٹرسٹڈ ماخذ سی او پی ڈی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
5۔ٹریچیا ، برونک اور پھیپھڑوں کے کینسر
سانس کے کینسر میں ٹریچیا ، لیرینکس ، برونکس اور پھیپھڑوں کے کینسر شامل ہیں۔ بنیادی وجوہات تمباکو نوشی ، سیکنڈ ہینڈ سگریٹ ، اور ماحولیاتی زہریلا ہیں۔ لیکن گھریلو آلودگی جیسے ایندھن اور سڑنا بھی اس میں معاون ہے۔
پوری دنیا میں سانس کے کینسر کے اثرات:
2015 کے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ سانس کے کینسر میں سالانہ 4 ملین اموات ہوتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں ، محققین آلودگی اور تمباکو نوشی کی وجہ سے سانس کے کینسر میں 81 سے 100 فیصد تک اضافے کا منصوبہ پیش کرتے ہیں۔ بہت سے ایشیائی ممالک ، خاص طور پر ہندوستان ، اب بھی کھانا پکانے کے لئے کوئلے کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹھوس ایندھن کا اخراج مردوں میں پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی اموات میں 17 فیصد اور خواتین میں 22 فیصد ہے۔
6۔ذیابیطس
ذیابیطس بیماریوں کا ایک گروہ ہے جو انسولین کی تیاری اور استعمال کو متاثر کرتا ہے۔ قسم 1 ذیابیطس میں ، لبلبہ انسولین پیدا نہیں کرسکتا ہے۔ وجہ معلوم نہیں ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس میں ، لبلبہ کافی انسولین تیار نہیں کرتا ہے ، یا انسولین کو موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس متعدد عوامل کی وجہ سے ہوسکتی ہے ، جن میں ناقص غذا ، ورزش کی کمی ، اور زیادہ وزن ہونا شامل ہیں۔
دنیا بھر میں ذیابیطس کے اثرات:
کم سے درمیانی آمدنی والے ممالک میں لوگ ذیابیطس سے ہونے والی پیچیدگیوں سے مرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔
خطرے کے عوامل اور روک تھام:
ذیابیطس کے خطرے والے عوامل میں شامل ہیں:
- جسم کا زیادہ وزن
- ہائی بلڈ پریشر
- بڑی عمر
- باقاعدگی سے ورزش نہیں کرنا
- غیر صحت بخش غذا
اگرچہ ذیابیطس سےہمیشہ سے بچا نہیں جاسکتا ہے ، لیکن آپ باقاعدگی سے ورزش کرکے اور اچھی تغذیہ برقرار رکھنے کے ذریعے علامات کی شدت کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اپنی غذا میں مزید فائبر کا اضافہ آپ کے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
7۔الزائمر کی بیماری اور دوسرے ڈیمینٹیاس
جب آپ الزائیمر کے مرض یا ڈیمینشیا کے بارے میں سوچتے ہیں تو ، آپ کو یادداشت کے ضائع ہونے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ، لیکن آپ کو کسی جانی نقصان کے بارے میں نہیں سوچا جاسکتا ہے۔ الزائمر کی بیماری ایک ترقی پسند بیماری ہے جو میموری کو ختم کرتی ہے اور عام دماغی افعال میں خلل ڈالتی ہے۔ ان میں سوچ ، استدلال اور عام سلوک شامل ہیں۔
الزائمر کی بیماری ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم ہے - ڈیمینشیا کے 60 سے 80 فیصد معاملات در حقیقت الزائمر کی ہیں۔ یہ بیماری ہلکی یادداشت کی پریشانیوں ، معلومات کو یاد کرنے میں دشواری ، اور یاد آوری میں پھسل جانے کی وجہ سے شروع ہوتی ہے۔ تاہم ، وقت کے ساتھ ، بیماری بڑھتی ہے اور آپ کو بہت وقت کی یاد نہیں رہ سکتی ہے۔ 2014 کے ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ الزائمر کی وجہ سے امریکہ میں ہونے والی اموات کی تعداد اطلاع سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
خطرے کے عوامل اور روک تھام
الزائمر کی بیماری کے خطرے والے عوامل میں شامل ہیں:
- 65 سال سے زیادہ عمر کا ہونا
- بیماری کی خاندانی تاریخ
- اپنے والدین سے بیماری کے وراثت میں جین حاصل کرنا
- موجودہ معتدل علمی خرابی
- ڈاؤن سنڈروم
- غیر صحت مند طرز زندگی
- پچھلے سر کا صدمہ
- کسی خاص سوچ والوں سے بند رہنا یا دوسرے لوگوں کے ساتھ طویل مدت تک خراب مصروفیت رکھنا
الزائمر کی بیماری سے بچنے کا فی الحال کوئی طریقہ نہیں ہے۔ تحقیقات واضح نہیں ہوتی ہیں کیوں کہ کچھ لوگ اس کی نشوونما کرتے ہیں اور دوسروں کو ترقی نہیں ہوتی ہے۔ چونکہ وہ اس کو سمجھنے کے لئے کام کرتے ہیں ، وہ احتیاطی تدابیر تلاش کرنے کے لئے بھی کام کر رہے ہیں۔
ایک چیز جو آپ کے مرض کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے وہ ہے صحت مند غذا۔ ایسی غذا جس میں پھل اور سبزیوں کی مقدار زیادہ ہو ، گوشت اور دودھ سے سیر شدہ چربی کم ہو ، اور گری دار میوے ، زیتون کا تیل ، اور دبلی پتلی مچھلی جیسے اچھے چربی کے ذرائع میں آپ کو محض دل کی بیماری سے زیادہ کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
8۔اسہال کی بیماریوں کی وجہ سے پانی کی کمی
اسہال اس وقت ہوتا ہے جب آپ ایک دن میں تین یا اس سے زیادہ ڈھیلا پاؤں گزر جاتے ہیں۔ اگر آپ کا اسہال کچھ دن سے زیادہ رہتا ہے تو ، آپ کا جسم بہت زیادہ پانی اور نمک کھو دیتا ہے۔ یہ پانی کی کمی کا سبب بنتا ہے ، جو موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اسہال عام طور پر آنتوں کے وائرس یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے جو آلودہ پانی یا کھانے کے ذریعہ منتقل ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں سینیٹری کے خراب حالات کے ساتھ وسیع ہے
دنیا بھر میں اسہال کی بیماریوں کے اثرات
اسہال کی بیماری 5 سال سے کم عمر بچوں میں موت کا دوسرا سب سے بڑا سبب ہے۔ تقریبا 7 760،000 بچے اسہال کی بیماریوں سے ہر سال مر جاتے ہیں۔
خطرے کے عوامل اور روک تھام
اسہال کی بیماریوں کے خطرے والے عوامل میں شامل ہیں:
- سینیٹری کے خراب حالات کے ساتھ ایسے علاقے میں رہنا
- صاف پانی تک رسائی نہیں
- عمر کے ساتھ ، بچوں کو اسہال کی بیماریوں کی شدید علامات کا زیادہ امکان ہوتا ہے
- غذائیت
- کمزور مدافعتی نظام
یونیسیف کے مطابق ، روک تھام کا بہترین طریقہ عمدہ حفظان صحت پر عمل کرنا ہے۔ ہاتھ دھونے کی عمدہ تکنیک اسہال سے ہونے والی بیماریوں کے واقعات کو 40 فیصد کم کرسکتی ہے۔ بہتر صفائی اور پانی کے معیار کے ساتھ ساتھ ابتدائی طبی مداخلت تک رسائی بھی اسہال کی بیماریوں سے بچنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
9۔تپ دق
تپ دق (TB) پھیپھڑوں کی ایک ایسی حالت ہے جو مائکوبیکٹیریم تپ دق کہلانے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ایک قابل علاج ہوا جراثیم ہے ، حالانکہ کچھ تناؤ روایتی علاج سے مزاحم ہیں۔ ٹی بی ان لوگوں میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے جو ایچ آئی وی رکھتے ہیں۔ ایچ آئی وی سے وابستہ اموات کا تقریبا 35 فیصد قابل اعتبار ذریعہ ٹی بی کی وجہ سے ہے۔
دنیا بھر میں ٹی بی کے اثرات
2000 کے بعد سے ہر سال ٹی بی کے معاملات میں 1.5 فیصد ٹرسٹ ٹرسٹ ذریعہ کمی واقع ہوئی ہے۔ 2030 تک ٹی بی کو ختم کرنا ہے۔
خطرے کے عوامل اور روک تھام
تپ دق کے خطرے والے عوامل میں شامل ہیں:
- ذیابیطس
- ایچ آئی وی انفیکشن
- جسم کا کم وزن
- ٹی بی سے دوسروں کی قربت
- کچھ ادویات جیسے کارٹیکوسٹیرائڈز یا دوائیں جو مدافعتی نظام کو دبا دیتی ہیں ان کا باقاعدہ استعمال
ٹی بی کے خلاف بہترین روک تھام بیسلس کیلمیٹ گوریئن (بی سی جی) ویکسین حاصل کرنا ہے۔ یہ عام طور پر بچوں کو دیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو ٹی بی کے بیکٹیریا کا سامنا کرنا پڑا ہے تو ، آپ اس حالت میں نشوونما کے امکان کو کم کرنے کے ل che کیمیوپروفیلیکس نامی علاج کی دوائی لینا شروع کرسکتے ہیں۔
10۔سروسس
سروسس دائمی یا طویل مدتی داغ اور جگر کو پہنچنے والے نقصان کا نتیجہ ہے۔ یہ نقصان گردے کی بیماری کا نتیجہ ہوسکتا ہے ، یا یہ ہیپاٹائٹس اور دائمی الکحل جیسے حالات کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ ایک صحتمند جگر آپ کے خون سے مضر مادوں کو فلٹر کرتا ہے اور آپ کے جسم میں صحت مند خون بھیجتا ہے۔ جیسا کہ مادہ جگر کو نقصان پہنچاتے ہیں ، داغ بافتوں کی شکل. جیسا کہ زیادہ داغ ٹشو بنتے ہیں ، جگر کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لئے سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ بالآخر ، جگر کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔
خطرے کے عوامل اور روک تھام
سروسس کے خطرے والے عوامل میں شامل ہیں:
- دائمی الکحل کا استعمال
- جگر کے گرد چربی جمع (غیر الکحل فیٹی جگر کی بیماری)
- دائمی وائرل ہیپاٹائٹس
ان سلوک سے دور رہیں جو جگر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کی وجہ سے سروسس کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ طویل المدت الکحل کا استعمال اور زیادتی سروسس کی ایک بنیادی وجہ ہے ، لہذا شراب سے پرہیز آپ کو نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ، آپ صحتمند ، پھل اور سبزیوں سے مالا مال اور کم چینی اور چربی کم کر کے غذا کھا کر غیر الکحل فیٹی جگر کی بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ آخر میں ، آپ جنسی تعلقات کے دوران حفاظت کا استعمال کرتے ہوئے اور کسی بھی ایسی چیز کو شیئر کرنے سے گریز کرتے ہیں جس میں خون کے آثار ہوسکتے ہیں۔ اس میں سوئیاں ، استرا ، دانتوں کے برش وغیرہ شامل ہیں
جہاں کچھ بیماریوں سے اموات میں اضافہ ہوا ہے ، وہیں زیادہ سنگین صورتحال سے بھی کم ہوا ہے۔ کچھ عوامل ، جیسے بڑھتے ہوئے عمر ، قدرتی طور پر بیماریوں جیسے CAD ، فالج اور دل کی بیماریوں کے واقعات میں اضافہ کرتے ہیں۔ لیکن اس فہرست میں بہت ساری بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے اور قابل علاج ہے۔ جیسا کہ دوا آگے بڑھتی ہے اور روک تھام کی تعلیم میں اضافہ ہوتا ہے ، ہم ان بیماریوں سے اموات کی شرح میں کمی دیکھ سکتے ہیں
ان حالات میں سے کسی کے بھی خطرے کو کم کرنے کے لئے ایک اچھا نقطہ نظر یہ ہے کہ اچھے تغذیہ اور ورزش کے ساتھ صحت مند طرز زندگی بسر کریں۔ اعتدال میں سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے پرہیز کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ بیکٹیریل یا وائرل انفیکشن کے لیے، مناسب ہاتھ دھونے سے آپ کے خطرے کو روکنے یا اسے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔









































