Monday, May 10, 2021

عورت کی مجبوری یا شوق

 عورت کی مجبوری یا شوق


عورت کی مجبوری یا شوق

نیوپوائنٹ! صاحب اب میرا کام ہو جائے گا نا؟اس نے دیوار کی طرف رخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔ ہاں ہاں بھئی ہو جائے گا۔ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں۔ پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اورپھر جھٹک کر لپیٹ لیا۔پیسے ملنے تک تو تمہیں ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے۔ کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے شرٹ کے بٹن لگائے۔

ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم سے باہر احتیاط کے طور پہ ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا۔ویسے تو دفتر کا چوکیدار مجھ سے چائے پانی کے پیسے لے کر میرا خیر خواہ ہی تھا لیکن میں کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔پھر میں کل ہی آ جاؤں؟ وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی۔نہیں کل نہیں!!! میں اس روز یہاں آ نے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئے بس آہ بھر کر رہ گیا۔ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔ میں نظروں سے اس کے جسم کے پیچ و خم کو تولنے لگا۔ ارے سنو!! تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہو گئی۔ اسے اتار کر سیدھی پہن لو۔ میں چلتا ہوں میرے پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ اور ہاں! احتیاط سے جانا کوئی دیکھ نہ لے تمہیں یہاں۔زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا۔ دو مہینے پہلے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت کے دوران اسے ٹانگ پر گولی لگی اور اب بستر پر لاچار پڑا تھا۔ فیکٹری کے مالکان اس کی امداد کے لئے پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کر کے بھول چکے تھے۔ اس کی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی۔ میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام کو اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:


!عمر! عمراپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عقب سے مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔ اس کے اور میرے گھر آنے کا وقت ایک ہی تھا۔ وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی۔ایک خوشخبری ہے عمروہ تیزی سے اوپر آ رہی تھی۔ خوشی سے اسکی باچھیں کھل رہی تھیں۔منیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں نے میرے پروموشن کی بات کی ہے۔ دروازے کے سامنے اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولا اور چابی نکال انہوں نے کہا تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہو جائے گا۔ارے واہ مبارک ہو۔ میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی۔تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں مگر ڈائریکٹر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں۔ کیوں نہ ہوں میں محنت جو اتنی کرتی۔۔وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے جا رہی تھی۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اس کی فتح کی داستان سے محظوظ ہو رہا تھا کہ۔۔ اچا نک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں س الجھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:


یہ پڑھنا مت بھولئے گا:



Saturday, May 8, 2021

جماع کرنے کے بعد کتنی دیر تک جسم گرم رہتا ہے اور غسل کتنی دیر بعد کرنا چاہیے؟

جماع  کرنے کے بعد کتنی دیر تک جسم گرم رہتا ہے اور غسل کتنی دیر بعد کرنا چاہیے؟


جماع  کرنے کے بعد کتنی دیر تک جسم گرم رہتا ہے اور غسل کتنی دیر بعد کرنا چاہیے؟

آج کا سوال یہ ہے کہ قربت کرنے کے بعد کتنی دیر کے بعد غسل کرنا چاہیے ۔جب میاں بیوی قربت کرتے ہیں تو اس کے بعد غسل کاتعین بلکل مقرر نہیں کیاگیا ہے بہتر یہ ہے کہ نماز فجر سے پہلے غسل کرلینا چاہیے تاکہ آپ نماز فجر ادا کرسکیں۔ اس دوران اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ مرد کی شر۔م ۔گاہ سےمادہ پوری طرح نکل جائے ۔ اگر نہانے کے بعد مرد کی ش۔۔رم گاہ سے کوئی مادہ کا اخراج ہوتا ہے اس صورت میں دوبارہ غسل کرنا واجب ہے ۔ جب تسلی ہوجائے اب کسی قسم کا مادہ نہیں نکلے گا تو تب غسل کرلینا چاہیے ۔ قربت کے بعد بہتر یہ ہوگا کہ آپ پیشاب کرلیں کیونکہ اس سے ہر قسم کا مادہ باہر خارج ہوجاتا ہے جب میاں بیوی دونوں کیلئے ضروری قربت کے بعد کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد پ،یشاب کرنے تک ہر قسم کا مادہ بیوی کی ش۔رم گاہ میں حمل ٹھہرنے کیلئے مرد نے اندرخارج کیا اسکے اندر جانے کاوقفہ دیا جائے۔ اضافی مادہ ہوگا وہ بیوی کی ش۔رم گا۔ہ سے خارج ہوجائے گا۔پ۔یشاب کرلیں تاکہ مرد کی ش۔رم۔گ اہ سے بھی وہ گاڑھا مادہ خارج ہوجائے جو بچا کچا ہے اور بیوی کی ش۔رم گاہ سے بھی خارج ہوجائے تاکہ غسل کے بعد ایسا کوئی معاملہ نہ ہو اگر ایسا معاملہ ہوگیا تو دوبارہ غسل کرنا ضروری ہے ۔ مقررہ کوئی وقت نہیں کوشش یہ کریں کہ نماز فجر سے پہلے غسل کرلیں۔ اسلام میں قربت کے بعد غسل کرنے کی مختلف روایات ہیں ۔قربت کے بعد غسل کرنے میں اتنی تاخیر اور سستی کرنا کہ نماز قضا ہو جائے یہ ناجائز ہے، شوہر بیوی دونوں کے لیے یہی حکم ہے، قربت کی حالت میں بچے کو دودھ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جب تک انسان قربت کر کے غسل نہیں کریگا وہ حرام ک۔اری میں رہیں گا وہ ل۔عنت میں رہیگا اور شیط۔ان اس پہ حاوی ہو جائیں گے کوئی بات نہیں ہے۔ جس سے پہلے اٹھ جائیں اور کرلے اس میں کافی ہے۔

بیوی کے ساتھ یہ چند کام کبھی نہ کریں۔۔! ورنہ ساری عمر پچھتائیں گے

 بیوی کے ساتھ یہ چند کام کبھی نہ کریں۔۔! ورنہ ساری عمر پچھتائیں گے


بیوی کے ساتھ یہ چند کام کبھی نہ کریں۔۔! ورنہ ساری عمر پچھتائیں گے

بعض اوقات انسان سے جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر زد ہوجاتی ہیں جس کی کوفت اسے ساری زندگی تڑپاتی ہے آج ہم آپ کو ایسی باتیں بتائیں گے جو بیوی کے ساتھ کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے جو بھی شخص اپنی شریک حیات کے ساتھ یہ عمل کرے گا رزق اس سے دور کر دیا جائے گا بیماریا ں اس کی زندگی میں عام ہو جاتی ہے ساس سسر کو گالی دینا شادی کے بندھن سے منسلک ہونے کے بعد ساس سسر والدین کا درجہ رکھتے ہیں وہ وہی تعظیم کے حقدار ہیں جو اپنے والدین کی ہوتی ہے ان کو برا بھلا کہنا گالی گلوچ کسنے سے منع فرمایا گیا ہے۔کچھ ان پڑھ لوگ اپنے ساس سسر کو برے ناموں سے پکارتے ہیں توزوال ایسے گھر کا مقدر بن جاتا ہے بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے سے عمل خاص کرنا بیوی کے ساتھ بدکاری کرنا شرمگاہ کو منہ لگانا یہ ایک غیرفطری فعل ہے جس سے عورت تکلیف سے دوچار ہوتی ہے ایسے مرد پیسے پیسے کا محتاج ہو جاتے ہیں وہ شوہر جو بات بات پروہ الفاظ بولے جس میں طلاق کاناپسند دید لفظ ہو گھروں میں میاں بیوی کے درمیان وقتی ناراضگی ہو جاتی ہے مگرچھوٹی بات پر طلاق کالفظ بول کرعورت کو پریشان کرنا بہت بڑی زیادتی ہے لفظ طلاق کو اللہ پاک نے سخت ناپسندفرمایاہے زندگی ایک دوسرےکوسمجھنےاوربرداش کرنے کانام ہے غلطیاں جانے انجانےمیں ہوجاتی ہیں بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ خوش اسلابی سے حل کیے جائیں تاکہ دلوں میں رنجشیں پروان نہ چڑھیں اور وفاباقی رہ سکیں جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں ایک دوسرے کی خوشی کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کو وہ مقام دیتے ہیں۔جس کا وہ حق رکھتے ہیں مرد عورت کو اپنی جائیداد نہ سمجھےعورت مرد کو اپنا غلام نہیں تو ان کی ازدواجی زندگی جنت بن جاتی ہے۔

صدقہ فطر کی مقدار کیا ہے؟ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

صدقہ فطر کی مقدار کیا ہے؟ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں



صدقہ فطر کی مقدار کیا ہے؟ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں:


جو بھی پڑھیں فائدے کی خاطر شیئر فرمائیں۔ شکریہ

Friday, May 7, 2021

رمضان کے آخری جمعہ میں قضائے عمری کے مخصوص عمل کا حکم

رمضان کے آخری جمعہ میں قضائے عمری کے مخصوص عمل کا حکم


رمضان کے آخری جمعہ میں قضائے عمری کے مخصوص عمل کا حکم

سوال

مجھے واٹسپ پر ایک پوسٹ ملی ہے، جس میں لکھا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس سے اتنی زیادہ نمازیں قضا ہوگئی ہوں کہ ان کی تعداد معلوم کرنا بہت مشکل ہو یا پھر معلوم کرنا ممکن نہ ہو تو جمعۃ الوداع کے دن چار رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں سات مرتبہ  آیت الکرسی اور اس کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو ان شاء اللہ  تمام عمر کی قضا نمازوں  کا کفارہ ہو جائے گا ، اگرچہ سات سو سال کی بھی نمازیں قضا ہیں تب بھی  اس کے لیے یہ چار رکعت نماز کفارے کے لیے کافی ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ 

جواب

سوال میں مذکورہ طریقے سے چار رکعات نماز پڑھنے سے قضا نمازیں ادا نہیں ہوتیں، بلکہ زندگی میں قضا نمازوں سے بری الذمہ ہونے  کے لیے ان کی ادائیگی کے علاوہ کوئی صورت نہیں، خدانخواستہ زندگی میں ادا نہ کرسکے تو  مرنے سے پہلے ایک تہائی ترکے میں سے نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرجائے۔

آپ نے جو  روایت لکھی ہے، یہ ثابت نہیں ہے، ان الفاظ کے قریب ایک روایت کا تذکرہ ایک من گھڑت روایت میں  ملتا ہے، محدثین نے ایسی روایات کو رد کیا ہے؛ لہٰذا اسے بطورِ روایت بیان کرنا اور اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ 

"حدیث: "من قضی صلاة من الفرائض في آخر جمعة من رمضان کان ذلك جابراً لکل صلاة فائتة في عمره إلی سبعین سنةً" باطل قطعاً؛ لأنه مناقض للإجماع علی أن شیئًا من العبادات لاتقوم مقام فائتة سنوات". (الأسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة حدیث ۹۵۳ مطبوعة دارالکتب العربیة بیروت ص ۲۴۲)

ملا علی  قاری  رحمہ اللہ  "موضوعات کبری"  میں کہتے ہیں: حدیث ’’ جس نے رمضان کے آخری جمعہ میں ایک فرض نماز ادا کرلی اس سے اس کی ستر سال کی فوت شدہ نمازوں کا ازالہ ہوجاتا ہے ‘‘  یقینی طور پر باطل ہے؛ کیوں کہ اس اجماع کے مخالف ہے کہ عبادات میں سے کوئی  شے سابقہ سالوں کی فوت شدہ عبادات کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ فقط واللہ اعلم

Wednesday, May 5, 2021

منی، مذی اور ودی کسے کہتے ہیں، اور ان کا حکم کیا ہے؟

 منی، مذی اور ودی کسے کہتے ہیں، اور ان کا حکم کیا ہے؟


منی، مذی اور ودی کسے کہتے ہیں، اور ان کا حکم کیا ہے؟

سوال

’’مذی‘‘  اور ’’ودی‘‘  میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں سے کس سے وضو ٹوٹتا ہے؟  اور کس سے کپڑے  ناپاک ہو جاتے ہیں ؟ اور ان کا رنگ کیسا ہوتا ہے؟ اور اگر کوئی شخص بیمار ہو بلا شہوت کے مذی یا ودی نکلے اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مرد و زن کی اگلی شرم گاہ سے پیشاب کے علاوہ تین قسم کے مادے نکلتے ہیں: منی، مذی اور ودی۔

مرد کی منی گاڑھی اور سفید رنگ کی ہوتی ہے اور عورتوں کی منی پتلی اور زرد رنگ کی گولائی والی ہوتی ہے، مردوں کی لمبائی میں پھیلتی ہے۔  منی لذت سے شہوت کے ساتھ کود کر نکلتی ہے اس کے بعد عضو کا انتشار ختم ہوجاتا ہے، تر ہونے کی صورت میں اس میں خرما کے شگوفہ جیسی بو اور چپکاہٹ ہوتی ہے، اور خشک ہوجانے کے بعد انڈے کی بو ہوتی ہے۔

 جب کہ  مذی پتلی،  سفیدی مائل پانی کی طرح رنگ کی ہوتی ہے، جو  شہوت کے وقت بغیر شہوت کے نکلتی ہے، اس کے نکلنے  پر شہوت قائم رہتی ہے، اس میں  کمی نہیں آتی، بلکہ شہوت میں  مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

 اور  ودی سفید گدلے رنگ کی گاڑھی ہوتی ہے جو پیشاب کے بعد اور کبھی اس سے پہلے اور کبھی جماع یا غسل کے بعد بلا شہوت نکلتی ہے۔

 مذی یا ودی نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتاہے، ان دونوں سے غسل فرض نہیں ہوتا، البتہ ان کے خروج کے بعد  نماز و دیگر عبادات، جیسے قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کے لیے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مراقي الفلاح مع الطحطاوي میں ہے:

"المني" وهو ماء أبيض ثخين ينكسر الذكر بخروجه يشبه رائحة الطلع ومني المرأة رقيق أصفر. وفي الطحطاوي علي المراقي: قوله: "يشبه رائحة الطلع" أي عند خروجه ورائحة البيض عند يبسه". ( "فصل ما يوجب" أي يلزم "الاغتسال، / ٩٦)

مراقي الفلاح میں ہے:

"منها مذي.... وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال.ويسمى في جانب النساء قذى بفتح القاف والدال المعجمة. "و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لايجب الغسل بخروج المذي والودي". (حاشية الطحطاوی علی المراقي، فصل: عشرة أشياء لايغتسل، ١ / ١٠٠ - ١٠١)

تنوير الأبصار مع الدر المختارمیں ہے:

"(لَا) عِنْدَ (مَذْيٍ أَوْ وَدْيٍ) بَلْ الْوُضُوءُ مِنْهُ وَمِنْ الْبَوْلِ جَمِيعًا عَلَى الظَّاهِرِ". (الشامیة، ١/ ١٦٥،ط: سعيد) 

مذی اور ودی نجاست غلیظہ ہے،اورحکم یہ ہے کہ نجاستِ  غلیظہ اگرایک درہم (ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے:5.94 مربع سینٹی میٹر)سے کم مقدارمیں کپڑے پرلگی ہوتو (اگرچہ اس مقدارمیں بھی نجاست کودھولیناچاہیے تاہم ) وہ معاف ہے ،یعنی نمازکراہت کے ساتھ ہوجائے گی۔ اوراگرایک درہم کی مقدارسےزائدہو تو ایسے کپڑے میں نمازنہیں ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"( وعفا ) الشارع ( عن قدر درهم ) وإن كره تحريماً، فيجب غسله وما دونه تنزيهاً فيسن، وفوقه مبطل ( وهو مثقال ) عشرون قيراطاً ( في ) نجس ( كثيف ) له جرم ( وعرض مقعر الكف ) وهو داخل مفاصل أصابع اليد ( في رقيق من مغلظة كعذرة ) آدمي وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ". (1/316،ط:بیروت)

بیمار شخص کے لیے بھی مذدی اور ودی کا یہی حکم ہے۔ فقط واللہ اعلم

عورت کب زیادہ ہمبستری پسند کرتی ہے؟ مردوں کے لیے ضروری معلومات

 عورت کب زیادہ ہمبستری پسند کرتی ہے؟ مردوں کے لیے ضروری معلومات


عورت کب زیادہ ہمبستری پسند کرتی ہے؟

آج کا موضوع ہے جب ایک عورت مباشرت کو بہت پسند کرتی ہے اور وہ کب تک مباشرت بننا چاہتی ہے۔ جب عورت حیض سے پاک ہوتی ہے تو ، اس کا بیضہ دانی رحم میں داخل ہوتا ہے۔

جو عورت کے لئے شرم کی بات ہے۔ اور بیضہ چار سے پانچ دن تک بچہ دانی میں رہتا ہے۔ یعنی ، عورت اپنے شوہر کے قریب ہونے سے زیادہ بے چین ہوتی ہے۔

میں ان تمام مردوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر آپ ہارنے سے تھک جائیں۔ قریب قریب یہاں تو آئیے اسے پیش کرتے ہیں۔

لہذا دنوں کا خاص خیال رکھنا۔ تاکہ آپ کی اہلیہ ان خاص ایام میں مباشرت کی خوشی سے محروم نہ رہیں۔ لہذا آپ کا کام دریافت کرنا ہے کہ وہ کیا ہے اور اس کو لاگو کریں۔

ویسے ، مرد کا فرض ہے کہ وہ عورت کی جسمانی ضروریات کا خیال رکھے۔ اور پھر دوسرا سوال یہ ہے کہ عورت کب تک قریبی رہنا چاہتی ہے۔

ان خاص دنوں میں ، عورت میں ہوس بہت زیادہ ہے۔ اگر آدمی ٹھیک سے کام کرے۔ اور اگر وہ بہت سختی سے درخواست دیتا ہے ، تو عورت بہت جلد ختم ہوجاتی ہے۔

مثال کے طور پر ، اگر کوئی عورت دس منٹ میں ختم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ان دنوں ایک عورت پانچ دن میں ختم ہوجاتی ہے۔ جوڑے جو نئے شادی شدہ ہیں۔

اور ایک سے زیادہ بار رجوع کریں۔ تو بیوی شوہر سے منع نہیں کرتی ہے۔ ان دنوں قریب رہنے کے فوائد یہ ہیں۔ کہ عورت کے اندر ہوس کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

ہر مرد اور عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے۔ کہ وہ جلد سے جلد والدین بن جائیں۔ بیوی کے قریب ہونا ایک بہت ہی فائدہ مند کام ہے۔

خدا سب کو اولاد عطا کرے۔ اسے ایک طریقہ کہنا غلط ہوگا کیوں کہ یہ ایک عمل ہی نہیں ہے بلکہ بہت سے نکات کا مجموعہ ہے۔

ان کی ہمیشہ ضرورت نہیں رہتی ہے۔ مختلف ماحول میں مختلف چیزیں کام کرتی ہیں۔ لہذا انہیں سمجھنا اور عمل کرنا ہے۔ اس کی ایک مثال بائیسکل چلانا سیکھ رہی ہے۔

شروع میں آپ بار بار موٹر سائیکل سے گرتے ہیں۔ اپنے آپ کو متوازن رکھنے کے لئے آپ کو مختلف حربوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

لیکن تھوڑی دیر بعد ، آپ کے جسم اور دماغ کے مختلف حصے تربیت یافتہ ہوجاتے ہیں اور یہ جوڑ خود بخود کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔

آپ کو یہ سوچنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ بس سائیکلنگ سے لطف اندوز ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ کو تیرنا سیکھنے کے لئے شروع میں کچھ چیزوں کا سہارا لینا پڑتا ہے ، جیسے ہوائی جیکٹ پہننا اور تالاب کے کنارے پائپ کی مدد سے اپنے آپ کو پانی میں توازن رکھنا۔

یہاں تک کہ بڑھانے کے مشق کے آغاز میں ہی آپ کو کچھ چیزوں کا سہارا لینا پڑے گا۔ جیسے جیسے آپ کا دورانیہ بڑھتا جائے گا ، ان چیزوں کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی۔

اگر آپ مباشرت کے دوران صرف دخول اور فالج پر توجہ دیتے ہیں تو آپ بہت جلد انزال ہوجائیں گے۔ سیکس کو دخول تک محدود نہ رکھیں بلکہ ہر چیز سے پوری لطف اٹھائیں۔

اس سے آپ کو زیادہ سے زیادہ لطف حاصل ہوگا اور آپ کا دماغ دخول کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں میں بھی مصروف ہوجائے گا اور اس کی مدت میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔

سب سے پہلے ، یہ بہتر ہے کہ آپ ہلکی ورزش کریں اور سو جائیں۔ جانے سے پہلے نہا لیں اور تازہ دم کریں۔ پھر کمرے کے ماحول پر توجہ دیں۔

اگر ممکن ہو تو ، کمرے میں تازہ پھول لگائیں۔ موتی اور گلاب آپ کو اور آپ کے ساتھی کو ایک دل چسپ جذبے کا احساس دلائیں گے۔

بستر کے پہلو پر گلاب کا پانی رکھیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ خوشبو کی شمع روشن کریں۔ نیز ، ٹی وی پر یا میوزک سسٹم پر اچھی سست حرکت پذیر موسیقی چلائیں۔

سائڈ ٹیبل پر ہلکے ناشتے یا پھل بھی رکھیں اور کمرے میں ائیر فریسنر سپرے کریں۔ آپ یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ تمام لوازمات ہر دن بہت زیادہ ہیں اور ممکن نہیں ہیں لیکن یقین ہے کہ آپ کو زندگی بھر یہ سب کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ سب صرف عمل کے آغاز کے لئے ضروری ہے۔ آہستہ آہستہ ان سب چیزوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

Tuesday, May 4, 2021

شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں؟

 شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں؟


شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں؟

ایک شخص ایک تجربہ کار عالم دین سے اپنا مسئلہ دریافت کرتے ہوئے کہنے لگا: شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔ اور جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا۔

تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔ پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔ شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ شیخ نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟ اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں! حضرت نے کہا: اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ حضرت نے جواب دیا: اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے،

اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔ سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچے نہیں رکھ سکتے۔ کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟ اس آدمی نے جواب دیا: جی ہاں!حضرت نے کہا: پھر تم اپنی نگاہیں نیچے رکھو۔

اگر خوش رہنا ہے تو دو باتیں بھول جاؤ۔ مزید پڑھیں

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : دو باتیں بھول جاؤ اگر خوش رہنا ہے تو!



اگر خوش رہنا ہے تو دو باتیں بھول جاؤ:

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : اگر خوش رہنا ہے تو دو چیزیں بھول جاؤ ۔

1):    وہ برا سلوک جو کسی نے تمہارے ساتھ کیا۔

2):    اور وہ اچھا عمل جو تم نے کسی کے ساتھ کیا۔