Monday, May 10, 2021

عورت کی مجبوری یا شوق

 عورت کی مجبوری یا شوق


عورت کی مجبوری یا شوق

نیوپوائنٹ! صاحب اب میرا کام ہو جائے گا نا؟اس نے دیوار کی طرف رخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔ ہاں ہاں بھئی ہو جائے گا۔ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں۔ پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اورپھر جھٹک کر لپیٹ لیا۔پیسے ملنے تک تو تمہیں ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے۔ کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے شرٹ کے بٹن لگائے۔

ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم سے باہر احتیاط کے طور پہ ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا۔ویسے تو دفتر کا چوکیدار مجھ سے چائے پانی کے پیسے لے کر میرا خیر خواہ ہی تھا لیکن میں کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔پھر میں کل ہی آ جاؤں؟ وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی۔نہیں کل نہیں!!! میں اس روز یہاں آ نے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئے بس آہ بھر کر رہ گیا۔ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔ میں نظروں سے اس کے جسم کے پیچ و خم کو تولنے لگا۔ ارے سنو!! تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہو گئی۔ اسے اتار کر سیدھی پہن لو۔ میں چلتا ہوں میرے پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ اور ہاں! احتیاط سے جانا کوئی دیکھ نہ لے تمہیں یہاں۔زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا۔ دو مہینے پہلے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت کے دوران اسے ٹانگ پر گولی لگی اور اب بستر پر لاچار پڑا تھا۔ فیکٹری کے مالکان اس کی امداد کے لئے پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کر کے بھول چکے تھے۔ اس کی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی۔ میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام کو اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:


!عمر! عمراپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عقب سے مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔ اس کے اور میرے گھر آنے کا وقت ایک ہی تھا۔ وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی۔ایک خوشخبری ہے عمروہ تیزی سے اوپر آ رہی تھی۔ خوشی سے اسکی باچھیں کھل رہی تھیں۔منیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں نے میرے پروموشن کی بات کی ہے۔ دروازے کے سامنے اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولا اور چابی نکال انہوں نے کہا تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہو جائے گا۔ارے واہ مبارک ہو۔ میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی۔تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں مگر ڈائریکٹر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں۔ کیوں نہ ہوں میں محنت جو اتنی کرتی۔۔وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے جا رہی تھی۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اس کی فتح کی داستان سے محظوظ ہو رہا تھا کہ۔۔ اچا نک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں س الجھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:


یہ پڑھنا مت بھولئے گا:



Wednesday, May 5, 2021

میری شادی ایک ان پڑھ آدمی سے ہوئی تھی جبکہ میں ایک ماڈرن لڑکی تھی،وہ جب کام سے گھر آتاتو اس سے بُو آتی تھی میں اس کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی تھیں مگر اس دن کچھ ایسا ہوا کہ زندگی ہی۔

 میری شادی ایک ان پڑھ آدمی سے ہوئی تھی جبکہ میں ایک ماڈرن لڑکی تھی،وہ جب کام سے گھر آتاتو اس سے بُو آتی تھی میں اس کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی تھیں مگر اس دن کچھ ایسا ہوا کہ زندگی ہی۔


میری شادی ان پڑھ آدمی سے ہوئی ماڈرن لڑکی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوںمیرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکالیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی مجھے عمر سے بدبو آتی تھی ان کا کام اتنا اچھا نہ تھاخیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتامیں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی عمر مجھے پیار سے سمجھاتاکبھی چپ ہو جاتاکبھی غصہ ہو کر گھر سے باہر چلا جاتامیں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سےامی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسابس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہےباقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہولیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھےامی ابو نے عمر کو بلوا لیاوہ میرے سامنے بیٹھا تھاامی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتےعمر بابا سے مخاطب ہو کر بولاانکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوںمیرے چاچا تایا سب موجود تھے وہاںمیں بولی مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ عمر خاموش ہو گیاسر جھکائے بیٹھا تھاچاچا بولے ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزارکچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا

لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینےمیں نے دل کی گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارامیں عمر کے ساتھ چلی گئی ہم بجلی پانی گیس کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھےعمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایاخیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتاایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دومیں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے دےعمر مسکرانے لگامیرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہوتم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کروجو کہو گی کروں گامیں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتانہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہےمیں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا

میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تومیری زندگی نے جو لمحہ دیکھامیں بے جان ہو گئی وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھاجس کا کبھی حال نہ پوچھا تھاجسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھاٹانگیں کانپ رہی تھی پرانے سے کپڑے پہنےپسینے سے شرابورپاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی میں مر کیوں نہ گئی تھی وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھااتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کرعمر کو شاید بھوک لگی تھی ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہواساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھامیں قربان جاوںمیرا عمر میرے لیئے کس درد سے گزر رہا تھا

میں آنسو لیئے دیکھتی رہی کام ختم ہواوہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیاکتنی بے بسی تھکن تھی عمر میں سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں فارس سر وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیامیں بن بتائے کچھ خریدے گھر واپس لوٹ گئی بہت روئی تھی بہت زیادہ عمر کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایاعمر گھر آیامیں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھاگھر آیامجھ سے سلام کیا کچن میں گیاپلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیاایک سال بعد پلاو کھانے لگا ہوں فارس سر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے میں عمر کی طرف دیکھے جا رہی تھی عمر کتنا درد سہتا ہے اور بتاتا بھی نہیں میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھادل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں عمر نے کھانا کھایاپھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزارمیں چیخ چیخ کر رونے لگی

عمر کے پاوں چوم لیئےعمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہئےمجھے یہ پیسے نہیں چاہئےعمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہےعمر نے میرا ہاتھ تھاما بولےاگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جاناکہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو گی خدا جانےبہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتامیں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھےنہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں

کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جس میں نے عمر کا دیکھا تھاخدا کی قسم ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہےجتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہوپیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتاخدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جس سکون عمر کی بانہوں میں آتا ہےجو سکون عمر کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہےہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی دیکھ تو سہی آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی عمر اب میری زندگی ہےاور میں عمر کی شہزادی ہوں۔

Monday, May 3, 2021

دکھاوے کی دنیا

 دکھاوے کی دنیا


دکھاوے کی دنیا

(نیوپوائنٹ پاکستان)! ایک شخص گھر آیا تو اس کی بیوی نےکہا : ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے اسے کٹوا دو ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جب غسل کررہی ہوں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔”

وہ بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور درخت کٹوا دیا۔

وقت گزرتا رہا۔ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر آیا تو دیکھا بیوی کسی مرد کے ساتھ مشغول تھی۔اسے بہت دُکھ ہوا۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔ اور وہاں اپنا کاروبار شروع کرلیا۔

اللہ نے کاروبار میں خوب برکت دی ، اور اپنے روز افزوں کاروبار کی بدولت وہ بغداد کے سرکردہ شہریوں میں شمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بغداد کے کوتوال تک رسائی بھی حاصل کرلی۔

ایک دن کوتوال کے گھرچوری ہوگئی۔پولیس نے مجرم کا سراغ لگانے اور پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس نے دیکھا کہ ایک شیخ کا کوتوال کے گھر آنا جانا ہے ، اور کوتوال ان کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔لیکن ایک بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شیخ آدھے پاؤں پر چلتے ہیں ، پورا پاؤں زمین پر کیوں نہیں رکھتے۔اس نے کسی سے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا:۔”یہ پورا پاؤں زمین پر اس لیے نہیں رکھتے کہ کہیں کیڑے مکوڑے نہ کُچلے جائیں۔”

وہ شخص فوراً کوتوال کے پاس گیا اور اسے کہا:۔

“جان کی امان ہو تو عرض ہے ، آپ کی چوری اِسی شیخ نے کی ہے۔”جب تحقیق کی گئی تو مال مَسرُوقہ اُسی شیخ سے برآمد ہوا۔

کوتوال نے حیرانی سے کہا:۔

“ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شیخ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟”اس نے کہا:۔”میرے گھر میں ایک درخت تھا ، جس نے مجھے نصیحت کی تھی:

“جو لوگ ضرورت سے زیادہ “نیک نظرآنے” کی کوشش کرتے ہیں ، وہ عموماً نیک نہیں ہوتے۔”سبق: یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ فیس بک کی حدود تک ہی بااخلاق رہتے ہیں حقیقی زندگی میں ان کی شر سے ان کے محلے دار، رشتے دار حتکہ گھر والے بھی پناہ مانگتے ہیں۔

ایسے اخلاق و نیک نامی کا کیا فائدہ جس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھائیں، جنکا آپ کی پریکٹیکل لائف سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اکثر ایسے کرداروں سے واسطہ رہتا ہے، کہ ذرا سا جھگڑا کیا ہوا، وہ اپنی کمینگی پر اتر آتے ہیں، ذرا سا اختلاف کر کے دیکھ لیں کسی سے، اپنی ٹائم لائن پر موصوف کیا بنے ہوتے ہیں اور حقیقت میں کیا۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں ظاہری اور باطنی طور پر اعمال صالحہ پر چلنے اور ہمارے معاملات و معاشرات پر بااخلاق رہنے کی توفیق دے ۔آمین

Saturday, May 1, 2021

اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ

اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ


اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں

اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ

بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض کا شمار پاکستان کی چند امیرترین شخصیات میں ہوتاہے اوراُنہوں نے اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے امارت کے خواب دیکھنے والے نوجوانوں کو تین تجاویز بھی دی ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ملک ریاض نے انکشاف کیاکہ اُنہوں نے راولپنڈی کے مسلم ہائی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور دوسرے سال 333نمبروں کیساتھ میٹرک کرنے میں کامیاب ہوسکے, اگر 332 نمبر ہوتے تو دوسرے سال بھی فیل ہی ہوتا، بہت غربت دیکھی اور اب اللہ تعالیٰ نے پیسہ  بھی بہت  بہت دیا ، امیرلوگوں کی کتاب پڑھی جس میں لکھاتھاکہ 39میں سے 35افراد پڑھائی میں نالائق ہی تھے ، بل گیٹس کو ہی ہی دیکھ لیں ، اگر یونیورسٹی سے نہ نکالاجاتاتووہ آج کے بل گیٹس نہ ہوتے۔ملک ریاض نے بتایاکہ اللہ نے لوگوں سے کوئی کام لینے ہوتے ہیں اوراسی طرف لگادیتاہے ، میں آج اگرڈاکٹرہوتاتوکچھ اور پوزیشن ہوتی ۔اُنہوں نے تین اصول بھی نوجوانوں کے ساتھ شیئرکیے اور بتایاکہخواہش:سب سے پہلے آپ کے اندر امیر بننے کی خواہش ہونی چاہیے ، اگرآپ کچھ اور کام بھی کرناچاہتے ہیں توپہلے اس کی خواہش ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کیساتھ کاروباریا اس کی راہ پر خرچ :ملک ریاض نے کہاکہ ’اللہ کے ساتھ کاروبار کرناچاہیے یعنی فراخ دلی سے صدقہ و خیرات اور اللہ کی راہ پر دیناچاہیے ، اس سے برکت آتی ہے ، سکول میں تھا تو تب ہی پانچ آنے روز اللہ کی راہ پر دیتاتھا۔ویلفیئرسے نوآدمیوں کا کھاناشروع کیا تھااور آج جتنے لوگوں کا انتظام ہوتاہے ، حساب بھی نہیں، اس کی راہ پر ایک لاکھ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ70 گنا دیتاہے ۔ اپنے کام سے محبت: اپنے کام سے کمٹمنٹ ہونی چاہیے ، محبت یا عزم آپ کا جتنا مضبوط ہوگا، کامیابی اتنی ہی جلدی ملے گی اور اللہ تعالیٰ آسانیاں پیداکردے گا، دل اور دماغ کامیابی کا سوچ رہاہوگاتوآپ کوشش بھی کریں گے۔ آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی ایسا کام کراتاہے جو حقوق العباد میں آتاہے۔۔

Friday, April 30, 2021

ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟

 ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟


ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟

ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟

جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ 

 اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لاکر  حاضر کیا گیا۔

شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟

عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں

شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟

عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔

شہزادی: تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟

عالم: یقیناً کردیا ہے-

شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟

عالم: نہیں

شہزادی: کیسے؟

عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟

شہزادی: ہاں دیکھا ہے

عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟

شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔

عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر واپس آنے  کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟

شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔

عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟

شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔

عالم نے کہا : تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔

Wednesday, April 14, 2021

رمضان المبارک کے فضائل و مسائل تفصیل کے ساتھ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

رمضان المبارک کے فضائل و مسائل تفصیل کے ساتھ:


رمضان المبارک کے فضائل و مسائل
رمضان المبارک کو دیگر تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اس مہینہ میں اللہ رب العزت کی رحمتوں، عنایات اور کرم نوازیوں کی عجیب شان ہوتی ہے۔ انہی برکات کا یہ ثمرہ ہے کہ اس میں ایک نفل کاثواب فرض کے برابر اورایک فرض کاثواب ستر فرائض کے برابرکردیاجاتاہے۔
(مشکوۃ المصابیح: ج1، ص173 کتاب الصوم- الفصل الاول)
اس مہینہ میں عبادات و ریاضات کا عالم کیسا ہونا چاہیے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس حدیث پر نظر ڈالیے، فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ شَدَّ مِئْزَرَهُ ، ثُمَّ لَمْ يَأْتِ فِرَاشَهُ حَتّٰى يَنْسَلِخَ •
(شعب الایمان للبیہقی: ج3ص310فضائل شہر رمضان)
ترجمہ: جب رمضان کا مہینہ آتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کمر ِہمت کس لیتے اوراپنے بستر پرتشریف نہ لاتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔
لیکن جب رمضان کی آخری دس راتیں آتیں توسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِى الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لاَ يَجْتَهِدُ فِى غَيْرِهَا•
(صحیح مسلم: ج1، ص372، باب الاجتہاد فی العشر الاواخر الخ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آخری دس دنوں میں جو کوشش فرماتے وہ باقی دنوں میں نہ فرماتے تھے۔
بلکہ رمضان کی آمد سے قبل آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی تیاری اور اس میں بھرپور محنت کرنے کے لیے ایک خطبہ بھی ارشاد فرمایا۔ چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے شعبان کی آخر تاریخ میں ہمیں وعظ فرمایا:
أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ شَهْرٌ مُبَارَكٌ شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ جَعَلَ اللّهُ صِيَامَهُ فَرِیْضَۃً وَ قِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّىٰ فَرِيضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَمَنْ أَدَّىٰ فِيهِ فَرِيضَةً كَانَ كَمَنْ أَدَّىٰ سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ وَ شَهْرُ الْمُوَاسَاةِ وَ شَهْرٌ يُزْدَادُ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ وَ عِتْقَ رَقَبَتِہٖ مِنَ النَّارِ وَ كَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُّنْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ قَالُوْا: لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا يُفَطِّرُ الصَّائِمَ فَقَالَ: يُعْطِي اللّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰى تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللّهُ لَہُ وَ أَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ وَ اسْتَكْثِرُوْا فِيْهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ : خَصْلَتَيْنِ تُرْضُوْنَ بِهِمَا رَبَّكُمْ وَ خَصْلَتَيْنِ لَا غِنىٰ بِكُمْ عَنْهُمَا فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُوْنَ بِهِمَا رَبَّكُمْ فَشَهَادَةُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّهُ وَ تَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ أَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنىٰ بِكُمْ عَنْهُمَا فَتَسْأَلُوْنَ اللهَ الْجَنَّةَ، وَتَعُوذُوْنَ بِهِ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَشْبَعَ فِیْہِ صَائِمًا سَقَاهُ اللّهُ مِنْ حَوْضِيْ شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتّٰى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ•
(صحیح ابن خزیمۃ:ج2 ص911 باب فضائل شہر رمضان- رقم الحدیث1887)
ترجمہ: ” تم پر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا اوربہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں کوئی نیکی کر کے اﷲ کا قرب حاصل کرے گا ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہو نے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور اسے روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ہو گا مگر ا س روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائیگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ( یہ ثواب پیٹ بھر کرکھلانے پر موقوف نہیں) بلکہ اگر کوئی بندہ ایک کھجور سے روزہ افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ لسّی کاپلادے تو اللہ تعالیٰ اس پربھی یہ ثواب مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اﷲ کی رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے تواللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیتے ہیں اور آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو جن میں سے دو چیزیں اﷲ کی رضا کے لیے ہیں اور دوچیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے رب تعالیٰ شانہ ( روزِ قیامت) میرے حوض سے اس کوایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہو نے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔“
رمضان المبارک کی عبادات کی فضیلت اور مسائل کا جاننا ضروری ہے تاکہ انسان اس مہینہ میں عبادات کو بطریقِ احسن ادا کر کے خدا تعالیٰ کے ہاں سرخرور ہو سکے۔
رمضان و روزہ کے فضائل
1: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا وَيُزَيِّنُ اللّهُ عَزَّوَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّتَهُ ثُمَّ يَقُولُ يُوشِكُ عِبَادِيَ الصَّالِحُوْنَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَىٰ وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ فَلَا يَخْلُصُوا إِلٰى مَا كَانُوا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي غَيْرِهِ وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللّهِ أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ لَا وَلٰكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفّٰى أَجْرَهُ إِذَا قَضٰى عَمَلَهُ•
(مسند احمد: ج8 ص30 رقم الحدیث7904)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کو رمضان شریف میں پانچ چیزیں خاص طور پر دی گئیں ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں دی گئیں:
(۱)ان کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
(۲)ان کیلئے فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ افطار کے وقت تک دعا کرتے ہیں۔
(۳)جنت ہر روز ان کیلئے سجا دی جاتی ہے۔ پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے مشقتیں اپنے اوپر سے ہٹا کر تیری طرف آئیں گے۔
(۴) اس مہینہ میں سرکش شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں اور لوگ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں جا سکتے ہیں۔
(۵)رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:کیایہ شب قدرہے؟ ارشادفرمایا: نہیں، بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو مزدوری کام ختم ہونے کے وقت دی جاتی ہے۔
2: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللّهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ•
(مسند احمد: ج9 ص346، رقم الحدیث9870)
ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: جو شخص بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن رمضان کا روزہ چھوڑ دے اور پھر تمام عمر کے روزے بھی رکھے تو اس ایک روزے کا بدل نہیں ہو سکتا۔
3: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا•
(سنن النسائی: ج1 ص311باب فضل الصیام)
ترجمہ: حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: روزہ انسان کے لئے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔
فائدہ: ڈھال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے آدمی ڈھال سے اپنی حفاظت کرتا ہے اسی طرح روزہ سے بھی اپنے دشمن یعنی شیطان سے حفاظت ہوتی ہے اور روزہ پھاڑ ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں جھوٹ، غیبت اور اس قسم کے ناجائز کام کیے جائیں۔ لہذا روزہ کے حقیقی فوائد اور ثمرات اس وقت حاصل ہوں گے جب انسان ان گناہ کی چیزوں اور لایعنی کاموں سے بچا رہے۔
4: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُرَدُّ دُعَاؤُهُمْ؛ اَلْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتّٰى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ•
(مسند احمد بن حنبل: ج9 ص298 رقم الحدیث9703)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی؛ ایک روزہ دار کی جب وہ روزہ افطار کرتے وقت مانگتا ہے، دوسرے عادل بادشاہ کی، تیسرے مظلوم انسان کی جس کواللہ تعالیٰ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ (اے بندے!) میں تیری ضرور مدد کروں گا ، گو (کسی مصلحت کی وجہ سے) کچھ دیر ہو جائے۔
5: عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اُحْضُرُوا الْمِنْبَرَ فَحَضَرْنَا، فَلَمَّا ارْتَقٰى دَرَجَةً قَالَ: آمِينَ ، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّانِيَةَ قَالَ: آمِينَ ، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّالِثَةَ قَالَ: آمِينَ ، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ قَالَ: فَقُلْنَا لَهٗ يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ سَمِعْنَا الْيَوْمَ مِنْكَ شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَسْمَعُهُ قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَرْضَ لِي فَقَالَ: بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَقُلْتُ: آمِينَ فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّانِيَةَ قَالَ: بَعُدَ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَقُلْتُ: آمِينَ، فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّالِثَةَ قَالَ: بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ الْكِبَرَ عِنْدَهُ أَوْ أَحَدَهُمَا، فلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ - أَظُنُّهُ قَالَ- فَقُلْتُ: آمِينَ•
(شعب الایمان للبیہقی: ج2 ص214باب فی تعظیم النبی صلی اللہ علیہ و سلم الخ)
ترجمہ: کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہو جاؤ۔ ہم لوگ (قریب قریب) حاضر ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے منبر کے پہلے زینہ پر قدم رکھا تو فرمایا :آمین۔جب دوسرے زینہ پر قدم رکھا توپھر فرمایا: آمین، جب تیسرے پر قدم رکھا توپھر فرمایا: آمین۔ جب آپ علیہ السلام خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپ سے ایسی بات سنی ہے جو پہلے کبھی نہیں سنی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت جبرئیل میرے پاس آئے تھے۔ جب میں نے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا: ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان کا مبارک مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہیں ہوئی، میں نے کہا :آمین، پھر جب میں دوسرے زینے پر چڑھا تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ بھیجے، میں نے کہا:آمین،جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے ا س کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی حالت میں آئیں اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں،میں نے کہا:آمین۔
6: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ذَاكِرُ اللهِ فِيْ رَمَضَانَ یُغْفَرُ لهٗ وَسَائِلُ اللهِ فِیْہِ لَا يَخِيْبُ •
(شعب الایمان للبیہقی: ج3ص311فضائل شہر رمضان)
ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا: ”رمضان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا بخشا جاتا ہے، اور اس مہینے میں اللہ تعالیٰ سے مانگنے والا بے مراد نہیں رہتا۔“
7: عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ •
(السنن الکبریٰ للبیہقی: ج4 ص240)
ترجمہ: حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزہ دار کا روزہ اِفطار کرایا یا کسی غازی کو سامانِ جہاد دیا، اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا۔“
مسائل روزہ
مسئلہ: رمضان شریف کے روزے ہر مسلمان پر جو مجنون اور نابالغ نہ ہو فرض ہیں، جب تک کوئی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں اور اگر کوئی روزہ کی نذر مان لے تو روزہ فرض ہو جاتاہے اور قضا اور کفارے کے روزے بھی فرض ہیں اوراس کے سوا اور سب روزے نفل ہیں، رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کوئی گناہ نہیں البتہ عیدین کے دن اور بقر عید سے بعد تین دن روزہ رکھناحرام ہے۔
مسئلہ: طلوعِ فجر سے لے کر سورج غروب ہونے تک روزے کی نیت سے کھانا اور پینا چھوڑ دیں اور خاوند و بیوی ہمبستر بھی نہ ہوں شریعت میں اس کو ’’روزہ‘‘ کہتے ہیں۔
مسئلہ: زبان سے نیت کرنا اور کچھ کہنا ضروری نہیں ہے بلکہ جب دل میں یہ دھیان ہے کہ آج میرا روزہ ہے اورسارا دن کچھ کھایانہ پیا نہ ہمبسترہوا تو اس کا روزہ ہوگیا اور اگر کوئی زبان سے بھی کہہ دے کہ یا اللہ میں کل تیرا روزہ رکھوں گا یا عربی میں یہ کہہ دے کہ’’وبصوم غد نویت‘‘ تو بھی کچھ حرج نہیں، یہ بھی بہتر ہے۔
مسئلہ: اگر کسی نے دن بھر نہ تو کچھ کھایا نہ پیا صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہا لیکن دل میں روزہ کا ارادہ نہ تھا بلکہ بھوک نہیں لگی یا کسی اور وجہ سے کچھ کھانے پینے کی نوبت نہیں آئی تو اس کا روزہ نہیں ہوا۔ اگر دل میں روزہ کاارادہ کرلیتا تو روزہ ہوجاتا۔
مسئلہ: شریعت میں روزہ صبح صادق کے وقت سے شروع ہوتاہے۔ اس لیے جب تک صبح صادق نہ ہو کھانا پینا وغیرہ سب کچھ جائز ہے۔ بعض لوگ سحری کھاکر نیت کی دعا پڑھ کر لیٹے رہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اب نیت کرلینے کے بعد کچھ کھانا پینا نہیں چاہیے، یہ خیال غلط ہے جب تک صبح صادق نہ ہو کھاپی سکتے ہیں چاہے نیت کرچکے ہوں یا ابھی تک نہ کی ہو۔
مسئلہ: رمضان شریف کے روزے میں بس اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ آج میرا روزہ ہے یا رات کو اتنا سوچ لے کہ کل میراروزہ ہے بس اتنی ہی نیت سے بھی رمضان کاروزہ اداہوجائے گا۔ اگر نیت میں خاص یہ بات نہ آئی ہوکہ رمضان کا روزہ ہے یا فرض روزہ ہے تب بھی روزہ ہوجائے گا۔
مسئلہ: شعبان کی انتیسویں تاریخ کو اگر رمضان شریف کا چاند نکل آئے تو صبح کو روزہ رکھیں اور اگر نہ نکلے یا آسمان پر بادل ہوں اور چاند نہ دکھائی دے تو صبح کو جب تک یہ شبہ رہے کہ رمضان شروع ہوا یا نہیں ،روزہ نہ رکھیں۔بلکہ شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کریں۔
مسئلہ: انتیسویں تاریخ کو(بادل یا گرد کی وجہ سے رمضان شریف کا چاند نہیں دکھائی دیا تو صبح کو نفلی روزہ بھی نہ رکھیں ہاں اگر ایسا اتفاق ہوجائے کہ ہمیشہ پیراور جمعرات یا کسی اور مقرر دن کا روزہ رکھتا تھا اور کل وہی دن ہے تو نفل کی نیت سے صبح کو روزہ رکھ لینابہتر ہے پھر اگر کہیں سے چاند کی خبر آگئی تو اسی نفل روزے سے رمضان کا فرض ادا ہوگیا اب اس کی قضانہ رکھیں۔
(منتخب از بہشتی زیور: ص117، 118 بتغیر یسیر)
جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا
مسئلہ: اگرروزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بھولے سے خاوند و بیوی ہمبستر ہوجائیں تو ان کا روزہ نہیں گیا۔اگر بھول کر پیٹ بھرکر بھی کھاپی لے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔اگر بھول کرکئی دفعہ کھاپی لیا تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
مسئلہ: ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھاتواگروہ اس قدرطاقت ور ہے کہ روزہ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاددلادینا واجب ہے اور اگر کوئی طاقت نہ رکھتا ہوکہ روزہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اس کو یادنہ دلاوے ،کھانے دیوے۔
مسئلہ: حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا خود بخوددھواں چلا گیا یا گرد وغبار چلاگیا تو روزہ نہیں گیا البتہ اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ جاتارہا۔
مسئلہ: لوبان (ایک قسم کی گوند جو آگ پر رکھنے سے خوشبو دیتا ہے )وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا تو روزہ جاتارہا۔ اسی طرح حقہ پینے سے بھی روزہ جاتارہتاہے البتہ اس دھوئیں کے سوا عطر، کیوڑہ، گلاب کا پھول اورخوشبو سونگھنا جس میں دھواں نہ ہو درست ہے۔
مسئلہ: دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہواتھایا کوئی اور چیز تھی اس کو خلال سے نکال کرکھاگیا لیکن منہ سے باہر نہیں نکالا یا آپ ہی آپ حلق میں چلی گئی تو دیکھیں اگر چنے سے کم ہے تب تو روزہ نہیں گیا اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو جاتارہا، البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل گئی تو ہرحال میں روزہ ٹوٹ گیا چاہے وہ چیز چنے کے برابر ہویا اس سے بھی کم ہودونوں کاایک حکم ہے۔
مسئلہ: تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتاچاہے جتنا ہو۔
مسئلہ: اگرپان کھا کر خوب کلی غرغرہ کرکے منہ صاف کرلیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تواس کا کچھ حرج نہیں، روزہ ہوگیا۔
مسئلہ: ناک کو اتنے زورسے سُٹَرک لیاکہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا اسی طرح منہ کی رال سُٹَرک کر نگل جانے سے روزہ نہیں جاتا۔(منتخب بہشتی زیور: ص117)
جن صورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتاہے
مسئلہ: کلی کرتے وقت حلق میں پانی چلاگیا اور روزہ یادتھا توروزہ جاتارہاقضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ: آپ ہی قے ہوگئی تو روزہ نہیں گیا چاہے تھوڑی سی قے ہوئی یا زیادہ۔ البتہ اگر اپنے اختیار سے قے کی اور منہ بھر کے تھی تو روزہ جاتارہا اور اگر اس سے تھوڑی ہو تو خود کرنے سے بھی نہیں گیا۔
مسئلہ: تھوڑی سی قے آئی پھر آپ ہی آپ حلق میں لوٹ گئی تب بھی روزہ نہیں ٹوٹاالبتہ اگر قصداً لوٹالیاتو روزہ ٹوٹ جاتا۔
مسئلہ: کسی نے کنکری یا لوہے کا ٹکڑا وغیرہ کوئی ایسی چیز کھالی جس کو نہیں کھایاکرتے اور نہ اس کو کوئی بطور دواکے کھاتاہے تواس کا روزہ جاتارہا لیکن اس پرکفارہ واجب نہیں اور اگر ایسی چیز کھالی یا پی لی جس کو لوگ کھایاکرتے ہیں یاکوئی ایسی چیز ہے کہ یوں تونہیں کھاتے لیکن بطور دوا کے ضرورت کے وقت کھاتے ہیں تو بھی روزہ جاتارہااور قضا وکفارہ دونوں واجب ہیں۔
مسئلہ: روزے کے توڑنے سے کفارہ جب ہی لازم آتاہے جب کہ رمضان شریف میں روزہ توڑ ڈالے رمضان شریف کے سوا اور کسی روزے کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا چاہے جس طرح توڑے اگرچہ وہ روزہ رمضان کی قضا ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ اگر اس روزہ کی نیت رات سے نہ کی ہو یا روزہ توڑنے کے بعد اسی دن حیض آگیا ہو تواس کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ: منہ سے خون نکلتاہے اس کوتھوک کے ساتھ نگل گیا تو روزہ ٹوٹ گیا البتہ اگر خون تھوک سے کم ہو اور خون کامزہ حلق میں معلوم نہ ہوتوروزہ نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ: اگر زبان سے کوئی چیز چکھ کر تھوک دی تو روزہ نہیں ٹوٹا لیکن خواہ مخواہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔ ہاں! اگر کسی کا شوہر بڑا بدمزاج ہو اور یہ ڈرہوکہ ا گر سالن میں نمک وغیرہ درست نہ ہوا تو غصہ ہوگا،اس کو نمک چکھ لینا درست ہے اور مکروہ نہیں۔
مسئلہ: کسی چیز کو اپنے منہ سے چباکرچھوٹے بچے کو کھلانامکروہ ہے البتہ اگر اس کی ضرورت پڑے اورمجبوری وناچاری ہوجائے تو مکروہ نہیں۔
مسئلہ: کوئلہ چباکردانت مانجھنا اورمنجن (ٹوتھ پیسٹ )سے دانت مانجھنامکروہ ہے اور اگراس میں سے کچھ حلق میں اترجائے توروزہ جاتارہے گا اور مسواک سے دانت صاف کرنا درست ہے چاہے سوکھی مسواک ہو یا تازی، اسی وقت کی توڑی ہوئی اگر نیم کی مسواک ہے اور اس کا کڑوا پن منہ میں معلوم ہوتاہے تب بھی مکروہ نہیں۔
مسئلہ: کسی نے بھولے سے کچھ کھالیا اوریوں سمجھا کہ میراروزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے پھر قصدا ًکچھ کھالیاتواب روزہ جاتارہا فقط قضاواجب ہے، کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ: اگر کسی کو قے آگئی اور وہ یہ سمجھا کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس گمان پر پھر قصداً کھا لیا اور روزہ توڑدیاتوبھی قضاواجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
(منتخب از بہشتی زیور: ص117 تا 119 تیسرا حصہ)
تراویح کے فضائل
1: حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
شَهْرٌکَتَبَ اللّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَہٗ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ•
(سنن ابن ماجۃ: ص94، باب ما جاء فی قيام شهر رمضان)
ترجمہ: اس مہینہ کے روزے اللہ تعالیٰ نےتم پر فرض فرمائے ہیں اور میں نے اس کے قیام (تراویح) کو تمہارے لیے سنت قرار دیا ہے۔
2: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللّهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ•
(صحیح البخاری: ج1،ص10، باب تطوع قیام رمضان من الایمان)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اورثواب کی نیت سے تروایح پڑھی تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
تراویح کے مسائل
تراویح بیس رکعت ہے:
1: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ•
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2 ص284 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ. المعجم الکبیر للطبرانی ج5ص433 رقم 11934، المنتخب من مسند عبد بن حميد ص218 رقم 653)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان میں بیس رکعت (تراویح) اور وتر پڑھتے تھے۔
2: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ•
(تاريخ جرجان للسہمی ص317، فی نسخۃ 142)
تر جمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی صلی اللہ علیہ و سلم رمضان میں ایک رات تشریف لائے اورلوگوں کوچار(فرض)بیس رکعت(تراویح) اورتین وترپڑھائے۔
3: عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَمَرَ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِاللَّیْلِ فِیْ رَمْضَانَ…… فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً•
(مسند أحمد بن منيع بحوالہ اتحاف الخیرۃ المہرۃ للبوصيري ج2 ص424 باب فی قيام رمضان)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھاؤں…… تو میں نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تروایح) پڑھائی۔
4: عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانُوا يَقُومُونَ عَلٰى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَكَانُوا يَقْرَءُونَ بِالْمِئِينِ ، وَكَانُوا يَتَوَكَّؤنَ عَلَى عُصِيِّهِمْ فِى عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ مِنْ شِدَّةِ الْقِيَامِ•
(السنن الكبرى للبیھقی ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں(صحابہ کرام باجماعت)بیس رکعت تراویح پڑھاکرتے تھے اورقاری صاحب سو سوآیات والی سورتیں پڑھتے تھے اورلوگ لمبے قیام کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورمیں لاٹھیوں کاسہارالیتے۔
5: عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ اَمَرَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْقِیَامِ فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ اَنْ یُّصَلِیَّ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَیُرَاوِحَ مَابَیْنَ کُلِّ اَرْبَعِ رَکْعَاتٍ•
(مسند الامام زیدص158)
ترجمہ: امام زیدرحمہ اللہ اپنے والد امام زین العابدین رحمہ اللہ سے وہ اپنے والد حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جس امام کورمضان میں تراویح پڑھانے کاحکم دیا تھا اسے فرمایاکہ وہ لوگوں کوبیس رکعات پڑھائے، ہر دورکعت پر سلام پھیرے، ہرچاررکعت کے بعد آرام کا اتنا وقفہ دے کہ حاجت والافارغ ہوکر وضوکرلے اوریہ کہ سب سے آخر میں وتر پڑھائے۔
6: حضرت زید بن وھب فرماتے ہیں:
کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُصَلِّیْ بِنَا فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ فَیَنْصَرِفُ وَ عَلَیْہِ لَیْلٌ، قَالَ الْاَعْمَشُ:کَانَ یُصَلِّیْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ• (قیام اللیل للمروزی ص157)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رمضان میں ہمیں تراویح پڑھاتے تھے اور گھر لوٹ جاتے توابھی رات باقی ہوتی تھی۔حدیث کےراوی امام اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ بیس رکعت تراویح اورتین رکعت وترپڑھتے تھے۔
7: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
اَجْمَعَ الصَّحَابَۃُ عَلٰی اَنَّ التَّرَاوِیْحَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً•
(مرقاۃ المفاتیح: ج3ص346 باب قیام شہر رمضان- الفصل الثالث)
ترجمہ: تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعات ہے۔
8: محدث علامہ ابوزکریا یحیی بن شرف الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اِعْلَمْ اَنَّ صَلَاۃَ التَّرَاوِیْحَ سُنَّۃٌ بِاتِّفَاقِ الْعُلَمَاءِ وَھِیَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً •
(کتاب الاذکارص226 باب اذکار صلاۃ التراویح)
ترجمہ: نماز تراویح باتفاق علماء سنت ہے اوریہ بیس رکعتیں ہیں۔
تراویح میں ختمِ قرآن:
1: عَنِ الْحَسَنِ قَالَ مَنْ اَمَّ النَّاسَ فِیْ رَمْضَانَ فَلْیَأْخُذْ بِھِمُ الْیُسْرَفَاِنْ کَانَ بَطِیْئَ الْقِرَاءَۃِ فَلْیَخْتِمِ الْقُرْآنَ خَتْمَۃً وَاِنْ کَانَ قِرَاءَۃً بَیْنَ ذٰلِکَ، فَخَتَمَۃً وَنِصْفاً وَاِنْ کَانَ سَرِیْعَ الْقِرَاءَۃِ فَمَرَّتَیْنِ•
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج 5ص222 باب فی صلاۃ رمضان)
ترجمہ: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان میں لوگوں کو نماز تراویح پڑھائے وہ ان سے آسانی کامعاملہ کرے۔ اگر اس کی قراءت آہستہ ہو توایک قرآن کریم کاختم کرے، قراءت کی رفتار درمیانی ہو تو ڈیڑھ اور اگرتیزقراءت کرسکتاہو توپھر دوبار قرآن کاختم کرے۔
2: قَالَ الْاِمَامُ الْفَقِیْہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَصْکَفِیُّ رَحِمَہُ اللّٰہِ :( وَالْخَتْمُ)مَرَّۃً سُنَّۃٌوَمَرَّتَیْنِ فَضِیْلَۃٌ وَثَلَاثًا اَفْضَلُ (وَلَایُتْرَکُ) الْخَتَمُ (لِکَسْلِ الْقَوْمِ) •
(الدرالمختار للحصکفی :ج2ص601 کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ التراویح)
ترجمہ: امام محمد بن علی الحصکفی فرماتے ہیں:تروایح میں ایک بار قرآن مجید ختم کرنا سنت ، دوبار فضیلت اورتین بار افضل ہے، قوم کی سستی کی وجہ سے چھوڑا نہ جائے۔
3: اَلسُّنَۃُ فِی التَّرَاوِیْحِ اِنَّمَا ہُوَالْخَتْمُ مَرَّۃً فَلَایُتْرَکُ لِکَسْلِ الْقَوْمِ •
(فتاوی عالمگیر یہ ج1ص130 فصل فی التروایح)
ترجمہ: تروایح میں ایک بار ختم قرآن کرنا سنت ہے، لوگوں کی سستی کی وجہ سے ترک نہ کیاجائے۔
تراویح میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا جائز نہیں:
1: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَانَا أَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَؤُمَّ النَّاسَ فِي الْمُصْحَفِ•
(کتاب المصاحف لابن ابی داؤد: ص711باب ہل یؤم القرآن۔۔(
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم امام بن کر قرآن پاک دیکھ کر پڑھائیں۔
2: عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَؤُمَّ الرَّجُلُ فِي الْمُصْحَفِ•
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5ص89 باب من کرہہ [ای الامامۃ بالقراءۃ فی المصحف])
ترجمہ: حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو نا پسند فرماتے تھے کہ آدمی امام بنے اور قرآن دیکھ کر پڑھائے۔
3: عَنْ إبْرَاهِيْمَ ، أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَؤُمَّ الرَّجُلُ فِي الْمُصْحَفِ•
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5ص88 باب من کرہہ [ای الامامۃ بالقراءۃ فی المصحف])
ترجمہ: مشہور فقیہ حضرت ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ قرآن دیکھ کر امامت کرانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
نا بالغ کی امامت جائز نہیں:
1: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَانَا أَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَؤُمَّ النَّاسَ فِي الْمُصْحَفِ ، وَنَهَانَا أَنْ يَّؤُمَّنَاإِلَّا الْمُحْتَلِمْ•
(کتاب المصاحف لابن ابی داؤد: ص711باب ہل یؤم القرآن فی المصحف)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم امام بن کر قرآن پاک دیکھ کر پڑھائیں اور ہمیں یہ حکم دیا کہ بالغ امامت کروائیں۔
2: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: لَا يَؤُمُّ الْغُلَامُ حَتّٰى تَجِبَ عَلَيْهِ الْحُدُوْدُ•
(نیل الاوطار للشوکانی:ج3ص176 باب ما جاء فی امامۃ الصبی)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بچہ امامت نہ کرائے جب تک اس قابل نہ ہو جائے کہ اس پر حدود لگ سکیں (یعنی بالغ ہو جائے)۔
3: عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : لاَ يَؤُمُّ غُلاَمٌ حَتَّى يَحْتَلِمَ•
(مصنف ابن ابی شیبہ:ج3 ص207 باب فی امامۃ الغلام قبل ان یحتلم)
ترجمہ: حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بچہ جب تک جوان نہ ہو جائے اس وقت تک امامت نہ کرائے۔

Wednesday, November 4, 2020

پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟ حیران کن اور زبردست طریقے

پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟ حیران کن اور زبردست طریقے


پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ تنخواہ دار طبقے سے ہے۔ بہت سے لوگ خاص طور پر مستقبل میں اپنی طرز زندگی کے استحکام کے لئے پیسہ بچانے کے بارے میں اکثر پریشان رہتے ہیں۔کچھ لوگ گھریلو معاملات کے لئے چھوٹی چھوٹی بچت میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ دوسرے بڑے پیمانے پر مختلف سرمایہ کاری اور سرکاری / نجی شعبے کے مالیاتی اداروں کے ذریعہ پیش کردہ بچت پروگراموں کی شکل میں بچت کرتے ہیں۔
آئیے پیسہ بچانے کے لئے درج ذیل نکات پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو آپ کو پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ بچانے کےتیز طریقوں کے بارے میں بتائیں گے۔

پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کیسے بچایا جائے؟

1:بچت کے لئے اہداف طے کریں۔ کسی چیز کے حصول کے لئے اہداف کا تعین کرنا سب سے پہلے آپ کو کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی چیز کے حصول کے لئے اہداف کا تعین کرنا سب سے پہلے آپ کو کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ بچانے کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں تو ، آپ کو کچھ طے شدہ اہداف کی ضرورت ہوگی۔پہلے سے چیزوں کی منصوبہ بندی کرنا پیسے کی بچت کے بہترین خیالات میں سے ایک ہے۔ یہ آپ کو آخری لمحے کی پریشانی سے بچنے کی اجازت دے گا اور اگر امکانات کے مطابق چیزیں نہیں چل رہی ہیں تو آپ متبادل طریقے سے ممکنہ طور پر سامنے آنے دیں گے۔ تسلی بخش جوابات حاصل کرنے کے لیے  اپنے ذہن میں سوالوں کی ایک فہرست بنائیں تاکہ آپ اس بارے میں بہتر خیال حاصل کرسکیں کہ آپ کیوں بچت کررہے ہیں۔

2:قرضوں سے آزاد ہوجائیں۔ 

آپ پاکستان میں رہتے ہوئے کبھی بھی رقم کی بچت نہیں کرسکتے جب تک کہ آپ اپنے تمام بقایا قرضوں کو ختم نہ کریں۔ ایک بار جب آپ ان کی ادائیگی کردیتے ہیں تو اس رقم کی بچت شروع کردیں جو آپ پہلے بطور قرض ادا کررہے تھے۔ یہ آپ کے دماغ کو دھوکہ دینے کا ایک طریقہ ہے تاکہ کچھ پیسے اکٹھے کردیں۔ پیسہ بچانے کے عمل کے ساتھ شروع کرنے کا یہ ایک بنیادی لیکن انتہائی موثر طریقہ ہے۔ یہ پاکستان میں پیسہ بچانے کے لئے سب سے زیادہ کارآمد ٹپس میں سے ایک ہے۔

3:ہر دن کچھ بچائیں۔ 

ہر روز کم مالیاتی وسائل کا استعمال کرنا اس کے بارے میں ایک اور طریقہ ہے۔ اس سے آپ کو مخصوص مدت کے بعد ، شاید ایک مہینہ یا دو مہینے کے بعد اپنی گھریلو بچت میں اچھی رقم جمع کرنے میں مدد ملے گی۔اسے ایک قسم کی رقم کی سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کریں جس کا مقصد آپ کو کافی بڑی رقم بچانے کی اجازت دی جاسکتی ہے جو ان کی مختصر مدت اور طویل مدتی مالی اہداف کی تکمیل کے لئے استعمال ہوسکتی ہے۔

4:غیر استعمال شدہ اشیا فروخت کریں۔ 

آپ تسلیم کریں یا نہیں ، ہم سب کے پاس اپنے گھر میں کچھ ناپسندیدہ چیزیں موجود ہیں۔ فرنیچر سے لے کر الیکٹرانک آلات تک؛ یہ غیر استعمال شدہ اشیاء کچھ بھی ہوسکتی ہیں۔ گھر میں ناپسندیدہ چیزیں صرف اضافی جگہ پر قبضہ کرتی ہیں اور ان کی بحالی کی اضافی لاگت پر آپ پر بوجھ پڑ سکتی ہے۔ لہذا ، بہتر ہے کہ انہیں بیچیں اور کچھ اضافی نقد رقم کمائیں۔ اسے پاکستان میں پیسہ بچانے کے لئے ایک مؤثر ترین نکات کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔

5:ہر چیز کو بجٹ میں کرو۔

کیا آپ کو ہر چیز کے لئے بجٹ بنانے کی عادت ہے؟ اگر ہاں ، تو پھر پیسہ بچانا آپ کے لئے مسئلہ نہیں ہوگا۔ تنخواہ دار شخص کے لئے اپنی آمدنی کی محدود رقم خرچ کرتے ہوئے فیصلے کرنا ہمیشہ مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔ آپ کو اپنی تنخواہ ملنے کے اسی دن پورے مہینے کے لئے بجٹ بنانا اس خدشے میں سب سے مؤثر اقدام ہے۔لہذا ، اپنے ماہانہ اخراجات پر اچھی گرفت حاصل کرنے کے لیے، آپ کے لئے بہتر ہے کہ وہ ایک مہینے میں اپنے تمام اخراجات پر نظر رکھیں اور جانچ کریں کہ آیا یہ آپ کی طے شدہ رقم کے مطابق ہے یا نہیں۔ ایک منظم بجٹ آپ کی بچت کے اہداف کے لئے حیرت زدہ کرسکتا ہے۔

6:اپنی بچت کو ایک طرف رکھیں۔ 

ماہانہ بجٹ بنانے سے پہلے ، آپ کو بچانے کا فیصلہ کیا ہوا رقم ایک طرف رکھنا چاہئے۔ اگر باقی فنانسز سے الگ نہیں ہوئے تو ، آپ کی بچت کا استعمال ہوسکتا ہے اور ماہ کے آخر میں اور آپ کو صرف روز مرہ کی بچت رہ جائے گی۔ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے، جاریہ مہینے میں اپنے گھریلو بجٹ کے ساتھ آنے کے وقت ہمیشہ اپنی بچت کو خارج کردیں۔

7:ہنگامی صورتحال کے لئے مالی طور پر تیار رہیں۔ 

ہنگامی استعمال کے لیے کچھ پیسہ نکالنا ایک بہت اہم رقم کی بچت کے نکات ہیں جو آپ کو مشکل حالات میں معاشی طور پر مستحکم رہنے دیتے ہیں۔ ہنگامی استعمال کے لیے کسی خاص رقم کی مخصوصیت کا دوسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ آپ کو کریڈٹ کارڈ کے قرض سے بچنے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ تاہم ، اگر آپ اپنے ہنگامی فنڈ کو مہینے کے آخر میں غیر استعمال شدہ محسوس کرتے ہیں تو ، اسے اپنی بچت میں شامل کریں۔

8:آسائشوں پر اپنا خرچ کم سے کم کریں۔

خریداری اور سفر جیسی سرگرمیوں پر ضرورت سے زیادہ رقم خرچ کرنا عیش و آرام سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ اس قسم کی عادات کا عادی ہے تو ، پھر واقعی یہ آپ کے لئے پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ بچانا مشکل ہوگا۔ جب آپ ماہانہ بجٹ تیار کررہے ہیں تو ، اس بات کو یقینی بنائیں کہ جس رقم کی وضاحت کی گئی ہو اس کو عیاشیوں پر کم سے کم خرچ کیا جائے۔
ہر تعطیلات یا چھٹیوں کے لئے شہر سے باہر جانے کے بجائے ، گھر میں چھٹی  گزارنے کی کوشش کریں۔ افادیت کا بے حد استعمال بھی عیش و آرام سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مہینے کے آخر میں یوٹیلیٹی بلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس طرح کے طریقوں کو ہر قیمت پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ عیش و آرام میں کمی پاکستانیوں کے لئے پیسہ بچانے کے لئے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہے۔