Sunday, April 17, 2022
Monday, May 10, 2021
عورت کی مجبوری یا شوق
عورت کی مجبوری یا شوق
عورت کی مجبوری یا شوق
نیوپوائنٹ! صاحب اب میرا کام ہو جائے گا نا؟اس نے دیوار کی طرف رخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔ ہاں ہاں بھئی ہو جائے گا۔ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں۔ پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اورپھر جھٹک کر لپیٹ لیا۔پیسے ملنے تک تو تمہیں ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے۔ کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے شرٹ کے بٹن لگائے۔
ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم سے باہر احتیاط کے طور پہ ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا۔ویسے تو دفتر کا چوکیدار مجھ سے چائے پانی کے پیسے لے کر میرا خیر خواہ ہی تھا لیکن میں کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔پھر میں کل ہی آ جاؤں؟ وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی۔نہیں کل نہیں!!! میں اس روز یہاں آ نے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئے بس آہ بھر کر رہ گیا۔ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔ میں نظروں سے اس کے جسم کے پیچ و خم کو تولنے لگا۔ ارے سنو!! تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہو گئی۔ اسے اتار کر سیدھی پہن لو۔ میں چلتا ہوں میرے پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ اور ہاں! احتیاط سے جانا کوئی دیکھ نہ لے تمہیں یہاں۔زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا۔ دو مہینے پہلے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت کے دوران اسے ٹانگ پر گولی لگی اور اب بستر پر لاچار پڑا تھا۔ فیکٹری کے مالکان اس کی امداد کے لئے پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کر کے بھول چکے تھے۔ اس کی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی۔ میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام کو اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
!عمر! عمراپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عقب سے مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔ اس کے اور میرے گھر آنے کا وقت ایک ہی تھا۔ وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی۔ایک خوشخبری ہے عمروہ تیزی سے اوپر آ رہی تھی۔ خوشی سے اسکی باچھیں کھل رہی تھیں۔منیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں نے میرے پروموشن کی بات کی ہے۔ دروازے کے سامنے اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولا اور چابی نکال انہوں نے کہا تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہو جائے گا۔ارے واہ مبارک ہو۔ میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی۔تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں مگر ڈائریکٹر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں۔ کیوں نہ ہوں میں محنت جو اتنی کرتی۔۔وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے جا رہی تھی۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اس کی فتح کی داستان سے محظوظ ہو رہا تھا کہ۔۔ اچا نک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں س الجھ گئی۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ پڑھنا مت بھولئے گا:
Wednesday, May 5, 2021
میری شادی ایک ان پڑھ آدمی سے ہوئی تھی جبکہ میں ایک ماڈرن لڑکی تھی،وہ جب کام سے گھر آتاتو اس سے بُو آتی تھی میں اس کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی تھیں مگر اس دن کچھ ایسا ہوا کہ زندگی ہی۔
میری شادی ایک ان پڑھ آدمی سے ہوئی تھی جبکہ میں ایک ماڈرن لڑکی تھی،وہ جب کام سے گھر آتاتو اس سے بُو آتی تھی میں اس کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی تھیں مگر اس دن کچھ ایسا ہوا کہ زندگی ہی۔
میری شادی ان پڑھ آدمی سے ہوئی ماڈرن لڑکی تھی اس کے مرجانے کی دعائیں مانگتی
میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوںمیرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکالیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی مجھے عمر سے بدبو آتی تھی ان کا کام اتنا اچھا نہ تھاخیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتامیں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی عمر مجھے پیار سے سمجھاتاکبھی چپ ہو جاتاکبھی غصہ ہو کر گھر سے باہر چلا جاتامیں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سےامی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسابس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہےباقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہولیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھےامی ابو نے عمر کو بلوا لیاوہ میرے سامنے بیٹھا تھاامی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتےعمر بابا سے مخاطب ہو کر بولاانکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوںمیرے چاچا تایا سب موجود تھے وہاںمیں بولی مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ عمر خاموش ہو گیاسر جھکائے بیٹھا تھاچاچا بولے ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزارکچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا
لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینےمیں نے دل کی گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارامیں عمر کے ساتھ چلی گئی ہم بجلی پانی گیس کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھےعمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایاخیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتاایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دومیں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے دےعمر مسکرانے لگامیرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہوتم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کروجو کہو گی کروں گامیں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتانہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہےمیں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا
میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تومیری زندگی نے جو لمحہ دیکھامیں بے جان ہو گئی وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھاجس کا کبھی حال نہ پوچھا تھاجسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھاٹانگیں کانپ رہی تھی پرانے سے کپڑے پہنےپسینے سے شرابورپاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی میں مر کیوں نہ گئی تھی وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھااتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کرعمر کو شاید بھوک لگی تھی ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہواساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھامیں قربان جاوںمیرا عمر میرے لیئے کس درد سے گزر رہا تھا
میں آنسو لیئے دیکھتی رہی کام ختم ہواوہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیاکتنی بے بسی تھکن تھی عمر میں سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں فارس سر وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیامیں بن بتائے کچھ خریدے گھر واپس لوٹ گئی بہت روئی تھی بہت زیادہ عمر کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایاعمر گھر آیامیں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھاگھر آیامجھ سے سلام کیا کچن میں گیاپلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیاایک سال بعد پلاو کھانے لگا ہوں فارس سر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے میں عمر کی طرف دیکھے جا رہی تھی عمر کتنا درد سہتا ہے اور بتاتا بھی نہیں میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھادل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں عمر نے کھانا کھایاپھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزارمیں چیخ چیخ کر رونے لگی
عمر کے پاوں چوم لیئےعمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہئےمجھے یہ پیسے نہیں چاہئےعمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہےعمر نے میرا ہاتھ تھاما بولےاگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جاناکہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو گی خدا جانےبہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتامیں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھےنہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں
کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جس میں نے عمر کا دیکھا تھاخدا کی قسم ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہےجتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہوپیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتاخدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جس سکون عمر کی بانہوں میں آتا ہےجو سکون عمر کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہےہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی دیکھ تو سہی آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی عمر اب میری زندگی ہےاور میں عمر کی شہزادی ہوں۔
Monday, May 3, 2021
دکھاوے کی دنیا
دکھاوے کی دنیا
دکھاوے کی دنیا
(نیوپوائنٹ پاکستان)! ایک شخص گھر آیا تو اس کی بیوی نےکہا : ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے اسے کٹوا دو ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جب غسل کررہی ہوں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔”
وہ بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور درخت کٹوا دیا۔
وقت گزرتا رہا۔ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر آیا تو دیکھا بیوی کسی مرد کے ساتھ مشغول تھی۔اسے بہت دُکھ ہوا۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔ اور وہاں اپنا کاروبار شروع کرلیا۔
اللہ نے کاروبار میں خوب برکت دی ، اور اپنے روز افزوں کاروبار کی بدولت وہ بغداد کے سرکردہ شہریوں میں شمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بغداد کے کوتوال تک رسائی بھی حاصل کرلی۔
ایک دن کوتوال کے گھرچوری ہوگئی۔پولیس نے مجرم کا سراغ لگانے اور پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس نے دیکھا کہ ایک شیخ کا کوتوال کے گھر آنا جانا ہے ، اور کوتوال ان کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔لیکن ایک بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شیخ آدھے پاؤں پر چلتے ہیں ، پورا پاؤں زمین پر کیوں نہیں رکھتے۔اس نے کسی سے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا:۔”یہ پورا پاؤں زمین پر اس لیے نہیں رکھتے کہ کہیں کیڑے مکوڑے نہ کُچلے جائیں۔”
وہ شخص فوراً کوتوال کے پاس گیا اور اسے کہا:۔
“جان کی امان ہو تو عرض ہے ، آپ کی چوری اِسی شیخ نے کی ہے۔”جب تحقیق کی گئی تو مال مَسرُوقہ اُسی شیخ سے برآمد ہوا۔
کوتوال نے حیرانی سے کہا:۔
“ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شیخ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟”اس نے کہا:۔”میرے گھر میں ایک درخت تھا ، جس نے مجھے نصیحت کی تھی:
“جو لوگ ضرورت سے زیادہ “نیک نظرآنے” کی کوشش کرتے ہیں ، وہ عموماً نیک نہیں ہوتے۔”سبق: یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ فیس بک کی حدود تک ہی بااخلاق رہتے ہیں حقیقی زندگی میں ان کی شر سے ان کے محلے دار، رشتے دار حتکہ گھر والے بھی پناہ مانگتے ہیں۔
ایسے اخلاق و نیک نامی کا کیا فائدہ جس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھائیں، جنکا آپ کی پریکٹیکل لائف سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اکثر ایسے کرداروں سے واسطہ رہتا ہے، کہ ذرا سا جھگڑا کیا ہوا، وہ اپنی کمینگی پر اتر آتے ہیں، ذرا سا اختلاف کر کے دیکھ لیں کسی سے، اپنی ٹائم لائن پر موصوف کیا بنے ہوتے ہیں اور حقیقت میں کیا۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں ظاہری اور باطنی طور پر اعمال صالحہ پر چلنے اور ہمارے معاملات و معاشرات پر بااخلاق رہنے کی توفیق دے ۔آمین
Saturday, May 1, 2021
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں
اگر امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں،ملک ریاض کا نوجوان نسل کے لیے زبردست مشورہ
بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض کا شمار پاکستان کی چند امیرترین شخصیات میں ہوتاہے اوراُنہوں نے اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے امارت کے خواب دیکھنے والے نوجوانوں کو تین تجاویز بھی دی ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ملک ریاض نے انکشاف کیاکہ اُنہوں نے راولپنڈی کے مسلم ہائی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور دوسرے سال 333نمبروں کیساتھ میٹرک کرنے میں کامیاب ہوسکے, اگر 332 نمبر ہوتے تو دوسرے سال بھی فیل ہی ہوتا، بہت غربت دیکھی اور اب اللہ تعالیٰ نے پیسہ بھی بہت بہت دیا ، امیرلوگوں کی کتاب پڑھی جس میں لکھاتھاکہ 39میں سے 35افراد پڑھائی میں نالائق ہی تھے ، بل گیٹس کو ہی ہی دیکھ لیں ، اگر یونیورسٹی سے نہ نکالاجاتاتووہ آج کے بل گیٹس نہ ہوتے۔ملک ریاض نے بتایاکہ اللہ نے لوگوں سے کوئی کام لینے ہوتے ہیں اوراسی طرف لگادیتاہے ، میں آج اگرڈاکٹرہوتاتوکچھ اور پوزیشن ہوتی ۔اُنہوں نے تین اصول بھی نوجوانوں کے ساتھ شیئرکیے اور بتایاکہخواہش:سب سے پہلے آپ کے اندر امیر بننے کی خواہش ہونی چاہیے ، اگرآپ کچھ اور کام بھی کرناچاہتے ہیں توپہلے اس کی خواہش ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کیساتھ کاروباریا اس کی راہ پر خرچ :ملک ریاض نے کہاکہ ’اللہ کے ساتھ کاروبار کرناچاہیے یعنی فراخ دلی سے صدقہ و خیرات اور اللہ کی راہ پر دیناچاہیے ، اس سے برکت آتی ہے ، سکول میں تھا تو تب ہی پانچ آنے روز اللہ کی راہ پر دیتاتھا۔ویلفیئرسے نوآدمیوں کا کھاناشروع کیا تھااور آج جتنے لوگوں کا انتظام ہوتاہے ، حساب بھی نہیں، اس کی راہ پر ایک لاکھ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ70 گنا دیتاہے ۔ اپنے کام سے محبت: اپنے کام سے کمٹمنٹ ہونی چاہیے ، محبت یا عزم آپ کا جتنا مضبوط ہوگا، کامیابی اتنی ہی جلدی ملے گی اور اللہ تعالیٰ آسانیاں پیداکردے گا، دل اور دماغ کامیابی کا سوچ رہاہوگاتوآپ کوشش بھی کریں گے۔ آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی ایسا کام کراتاہے جو حقوق العباد میں آتاہے۔۔
Friday, April 30, 2021
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔
اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لاکر حاضر کیا گیا۔
شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی: تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: یقیناً کردیا ہے-
شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم: نہیں
شہزادی: کیسے؟
عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی: ہاں دیکھا ہے
عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟
شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم نے کہا : تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔



























